🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1819)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ تَعْيِينِ أَوْقَاتِ الصَّلَاةِ
نماز کے اوقات کے تعین کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 118
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَمَّنِي جِبْرِيلُ عِنْدَ بَابِ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ، فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ مِثْلَ الشِّرَاكِ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ بِقَدْرِ ظِلِّهِ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَى الصَّائِمِ، ثُمَّ صَلَّى الْمَرَّةَ الْأَخِيرَةَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ قَدْرَ ظِلِّهِ قَدْرَ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ بِقَدْرِ الْوَقْتِ الْأَوَّلِ لَمْ يُؤَخِّرْهَا، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ أَسْفَرَ، ثُمَّ الْتَفَتَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ، وَالْوَقْتُ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ  . قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهَذِهِ الْمَوَاقِيتُ فِي الْحَضَرِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرئیل علیہ السلام نے بیت اللہ کے پاس دو دفعہ میری امامت کی۔ پہلی بار ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جبکہ سایہ (نعلین کے) تسمہ کے برابر تھا۔ پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا اور مغرب اس وقت پڑھی جب روزے دار نے روزہ کھولا (یعنی غروب آفتاب)، پھر عشاء کی نماز اس وقت پڑھی جب سرخی غائب ہوگئی۔ پھر صبح کی نماز اس وقت پڑھی جب روزہ دار پر کھانا، پینا حرام ہو گیا، (یعنی طلوع فجر کے وقت)۔ پھر دوسری بار ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، جس وقت انہوں نے کل عصر کی نماز پڑھی تھی۔ پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ دو گنا ہو گیا۔ پھر مغرب کی نماز اسی وقت پڑھی جس وقت پہلی بار پڑھی تھی۔ پھر عشاء کی نماز اس وقت پڑھی جب ایک تہائی رات گزر گئی، پھر صبح کی نماز اس وقت پڑھی جب زمین خوب روشن ہوگئی۔ پھر جبرئیل علیہ السلام میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ سے پہلے پیغمبروں کا یہی وقت تھا اور نماز کا وقت انہیں دو وقتوں کے درمیان ہے۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 118]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذى الصلاة، باب ماجاء في مواقيت الصلاة عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم: 149 - وقال حسن صحيح ابوداود، الصلاة، باب في المواقيت: 393 و صححة ابن الجارود: 149، 150 - وابن خزيمة: (325).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 119
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخَّرَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الصَّلَاةَ. فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"نَزَلَ جِبْرَئِيلُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، حَتَّى عَدَّ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ"  . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عُرْوَةُ، وَانْظُرْ مَا تَقُولُ. فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: أَخْبَرَنِيهِ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ.
زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبد العزيز رحمہ اللہ نے نماز میں تاخیر کی تو عروہ رحمہ اللہ نے انہیں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل آئے، میری امامت کی اور میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی... پھر جبرئیل آئے، میری امامت کی اور میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر جبرئیل آئے میری امامت کی اور میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر جبرئیل آئے، میری امامت پھر جبرئیل آئے میری امامت کی اور میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، یہاں تک کہ پانچ نمازوں کو شمار کیا۔ یہاں تک کہ پانچ نمازوں کو شمار کیا۔ تو عمر بن عبد العزيز رحمہ اللہ نے فرمایا: عروہ اللہ سے ڈرو! کیا کہہ رہے ہو۔ عروہ نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے کہا مجھے بشیر بن ابی مسعود نے اپنے باپ سے خبر دی ہے وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 119]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: مواقيت الصلاة، باب مواقيت الصلاة وفضلها: (521) - ومسلم، المساجد، باب اوقات الصلوة الخمس: (610).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں