🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1819)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. بَابٌ فِي قَضَاءِ الصَّلَاةِ
قضا نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 151
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ عَنِ الصُّبْحِ فَصَلَّاهَا بَعْدَمَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ، وَقَالَ:" مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي   [طه: 14] .
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے سو گئے تو اسے سورج طلوع ہونے کے بعد پڑھا اور فرمایا: جو نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے وہ پڑھ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔ [طه: 14] [مسند امام شافعی/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 151]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم المساجد، باب قضاء الصلاة الفائتة واستحباب تعجيل قضائها (680) موصولاً.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 152
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، يَعْنِي: ابْنَ دِينَارٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَعَرَّسَ، فَقَالَ:"أَلَا رَجُلٌ صَالِحٌ يَكْلَؤُنَا اللَّيْلَةَ؟ لَا نَرْقُدُ عَنِ الصَّلَاةِ"، فَقَالَ بِلَالٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَاسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ، وَاسْتَقْبَلَ الْفَجْرَ فَلَمْ يَفْزَعُوا إِلَّا بِحَرِّ الشَّمْسِ فِي وُجُوهِهِمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَا بِلَالُ"، فَقَالَ بِلَالُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ. قَالَ: فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ اقْتَادُوا شَيْئًا، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ.  
اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، آخرِ شب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ ڈالا، اور فرمایا: ہے کوئی نیک آدمی جو آج کی رات پہرہ دے؟ تاکہ ہم نماز سے سوئے نہ رہیں۔ تو بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں (پہرہ دوں گا) اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔ کہتے ہیں بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری سے ٹیک لگائی اور مشرق کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئے (تاکہ طلوعِ فجر پر اذان کہیں)، سورج کی گرمی چہروں پر پڑنے سے بیدار ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! تو بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جس ذات نے آپ کو (بیداری) سے روک لیا اسی نے مجھے بھی روک لیا۔ صحابی کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور فجر کی دو سنتیں پڑھیں، پھر تھوڑی دور اونٹوں کو ہانکا اور پھر نمازِ فجر ادا کی۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 152]
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي في المعرفة والسنن والآثار (1899) وقد صح ايضاً من حديث عمران بن حصين عند البخاري (344) ومسلم (682).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 153
أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ بِهَوِيٍّ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى كُفِينَاهُ، وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا [الْأَحْزَابِ: 25] فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا، فَأَمَرَهُ، فَأَقَامَ الظُّهْرَ فَصَلَاهَا فَأَحْسَنَ صَلَاتَهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا، ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ فَصَلَاهَا كَذَلِكَ، ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ فَصَلَاهَا كَذَلِكَ ثُمَّ أَقَامَ الْعِشَاءَ فَصَلَاهَا كَذَلِكَ أَيْضًا، قَالَ: وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ: فَرِجَالا أَوْ رُكْبَانًا   [الْبَقَرَةِ: 239] . أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ.
ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان فرماتے ہیں، ہمیں غزوہ خندق کے دن نماز سے روک دیا گیا، یہاں تک کہ مغرب کے بعد رات کا ایک حصہ گزر گیا، حتیٰ کہ ہم اس سے کفایت کر دیے گئے اور یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اور اللہ لڑائی میں مومنوں کو کافی ہو گیا اور اللہ تعالیٰ قوی اور غالب ہے۔ [احزاب: 25] نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کے لیے اقامت کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ایسے اچھے طریقے سے پڑھائی جس طرح اس کے وقت پر پڑھ رہے ہوں، پھر (بلال رضی اللہ عنہ نے) عصر کی اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نماز بھی اسی طرح (اچھے طریقے سے) پڑھائی۔ پھر مغرب کی اقامت کہی اور اسی طرح نماز پڑھائی۔ پھر عشاء کی اقامت کہی اور یہ بھی اسی طرح (اچھے طریقے سے) پڑھائی اور یہ واقعہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے تھا جو نمازِ خوف کے بارے میں نازل ہوئی کہ (اگر تم ڈرو) تو پیدل یا سوار ہو کر۔ [البقرة: 239] [مسند امام شافعی/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 153]
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي، الأذان، باب الأذان للفائت من الصلوة (662) و احمد (3/ 25، 49، 67) و الدارمي (1532) و صححه ابن خزيمة (996) (1703).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں