مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ فَسْخِ الْحَجِّ بِالْعُمْرَةِ
حج کو فسخ کر کے عمرہ کر لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 799
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ ص: 188 ] حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ، فَنَظَرْتُ مَدَّ بَصَرِي مِنْ بَيْنِ رَاكِبٍ وَرَاجِلٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَمِنْ وَرَائِهِ كُلُّهُمْ يُرِيدُ أَنْ يَأْتَمَّ بِهِ، يَلْتَمِسُ أَنْ يَقُولَ كَمَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ وَلَا نَعْرِفُ غَيْرَهُ، وَلَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ فَلَمَّا طُفْنَا فَكُنَّا عِنْدَ الْمَرْوَةِ قَالَ:"أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ، وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ"، فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب ہم بیداء مقام پر تھے تو میں نے اپنے آگے، دائیں، بائیں اور پیچھے تاحدِ نگاہ سوار اور پیدل چلنے والے دیکھے۔ ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ وہ اس (حج) کو مکمل کرے۔ اور ہر کوئی اس کوشش میں تھا کہ اسی طرح کرے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں۔ ہماری حج کے علاوہ کوئی اور نیت نہ تھی اور نہ ہم اس کے علاوہ کچھ جانتے تھے، اور نہ ہم (حج کے مہینوں میں) عمرہ کے متعلق جانتے تھے۔ جب ہم طواف کے بعد مروہ کے پاس تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! جس کے پاس قربانی کا جانور نہیں ہے وہ احرام کھول دے اور اس احرام حج کو عمرہ بنالے (یعنی طواف سعی تو ہو چکی اور عمرہ کے افعال بھی پورے ہو گئے) اگر جو بات بعد میں میرے علم میں آئی ہے پہلے آجاتی تو میں قربانی نہ لاتا۔“ تو جن کے پاس قربانی نہ تھی انہوں نے احرام کھول دیا۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 799]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم الحج، باب حجة النبي صلی اللہ علیہ وسلم، رقم: (1218).»
حدیث نمبر: 800
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ"، وَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ فَحَلَلْتُ، وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْيٌ فَلَمْ يَحْلِلْ.
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، بیان فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کے لیے) نکلے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی (نہیں) ہے وہ حلال ہو جائے۔“ اور میرے پاس قربانی نہ تھی تو میں نے احرام کھول دیا، اور زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس قربانی تھی تو انہوں نے احرام نہ کھولا۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 800]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم، الحج، باب ان المحرم بعمرة لا يتحلل بالطواف قبل السعي .... الخ (1236).»
حدیث نمبر: 801
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ. قَالَ يَحْيَى: فَحَدَّثْتُ بِهِ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ: جَاءَتْكَ وَاللَّهِ، بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے بیان فرماتی ہیں کہ ابھی ذی القعدہ کے پانچ دن باقی تھے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادہ سے نکلے۔ جب ہم مقام سرف یا اس کے قریب تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، جس کے پاس قربانی نہیں وہ اپنے احرام (حج) کو عمرہ بنالے۔ اور جب ہم منی میں تھے میرے پاس گائے کا گوشت آیا میں نے کہا یہ کیسا گوشت ہے؟ کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کی ہے۔ یحییٰ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد سے بیان کی تو انہوں نے کہا عمرہ! تیرے پاس اللہ کی قسم حدیث اپنی اصل شکل میں لائی ہیں۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 801]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الحج، باب وما يأكل من البدن وما يتصدق (1720) ومسلم، الحج، باب بيان وجوه الاحرام وأنه يجوز افراد الحج ... الخ (1211).»
حدیث نمبر: 802
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، وَالْقَاسِمِ مِثْلَ حَدِيثِ سُفْيَانَ لَا يُخَالِفُ مَعْنَاهُ.
ایک دوسری سند سے عمرہ اور قاسم دونوں سے سفیان رحمہ اللہ کی سند جیسی بغیر معنی کی مخالفت کے یہی حدیث مروی ہے۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 802]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري الحج، باب ذبح الرجل البقر»
حدیث نمبر: 803
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَهِشَامُ بْنُ حُجَيْرَةَ، سَمِعُوا طَاوُسًا، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ لَا يُسَمِّي [ ص: 190 ] حَجًّا وَلَا عُمْرَةً يَنْتَظِرُ الْقَضَاءَ، فَنَزَلَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَهُوَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ أَهَلَّ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمَا سُقْتُ الْهَدْيَ، وَلَكِنْ لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَسُقْتُ هَدْيِي، وَلَيْسَ لِي مَحِلٌّ دُونَ مَحِلِّ هَدْيِي"، فَقَامَ إِلَيْهِ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِ لَنَا قَضَاءَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، أَعُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ:"بَلْ لِلْأَبَدِ"، دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. قَالَ: وَدَخَلَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"بِمَ أَهْلَلْتَ"؟ فَقَالَ: أَحَدُهُمَا عَنْ طَاوُسٍ: إِهْلَالَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الْآخَرُ: لَبَّيْكَ حَجَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
طاؤوس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج یا عمرہ کا نام نہیں لیتے تھے بلکہ آپ وحی کا انتظار فرما رہے تھے۔ جب آپ صفا اور مروہ کے درمیان تھے تو اس وقت وحی نازل ہوئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابہ کرام کو حکم دیا جنہوں نے احرام (حج کا) باندھا ہوا تھا اور ان کے پاس قربانی نہ تھی کہ وہ اس کو عمرہ بنا لیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ بات جو مجھے بعد میں معلوم ہوئی پہلے معلوم ہو جاتی تو میں قربانی نہ لاتا۔ لیکن میں نے سر کے بال چپکا لیے اور قربانی ہانک لایا ہوں۔ اب میں قربانی کیے بغیر حلال نہیں ہو سکتا۔“ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کھڑے ہوئے اور کہا: ”یا رسول اللہ! آپ ہمارے لیے ایک ایسی قوم کا فیصلہ کریں گویا جو آج ہی پیدا ہوئی، کیا ہمارا یہ عمرہ صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ اب عمرہ (ایام) حج میں قیامت کے دن تک کے لیے داخل ہو گیا ہے۔“ طاؤوس نے کہا (مکہ میں) علی رضی اللہ عنہ یمن سے تشریف لائے تو ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”آپ نے کس نیت سے احرام باندھا ہے؟“ میسرہ اور ہشام بن حجیرہ میں سے ایک نے طاؤوس سے روایت کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کا (یعنی جس نیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے)“ اور دوسرے نے کہا کہ ”میں حاضر ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے ساتھ۔“ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 803]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لإرساله اخرجه البيهقي: 6/5 . وفى المعرفة السنن والآثار له (2683).»
حدیث نمبر: 804
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ فَتَدَارَكَ النَّاسُ الْمَدِينَةَ لِيَخْرُجُوا مَعَهُ، فَخَرَجَ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ لَا نَعْرِفُ إِلَّا الْحَجَّ، وَلَهُ خَرَجْنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا يُنَزَّلُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ، وَإِنَّمَا يَفْعَلُ مَا أُمِرَ بِهِ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَلَمَّا طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ:"مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً فَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ وَلَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً" .
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو برس تک مدینہ میں رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج نہیں کیا، پھر (دسویں سال) لوگوں میں حج کے لیے منادی کرائی۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلنے کے لیے مدینہ میں آنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (حج کے لیے) چلے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے، ہم صرف حج کا ارادہ رکھتے تھے اور اسی غرض سے نکلے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن اترتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی حقیقت کو خوب جانتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے جس طرح آپ کو حکم ہوتا تھا۔ جب ہم مکہ آپہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی نہیں وہ اس کو عمرہ بنا لے اور اگر وہ بات جو مجھے بعد میں معلوم ہوئی پہلے ہو جاتی تو میں قربانی نہ لاتا اور اس کو عمرہ بنا لیتا۔“ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 804]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم الحج، باب حجه النبي صلی اللہ علیہ وسلم (1218).»
حدیث نمبر: 805
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ: أَنَّهُمَا سَمِعَا طَاوُسًا، يَقُولُ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسَمِّي حَجًّا وَلَا عُمْرَةً يَنْتَظِرُ الْقَضَاءَ، قَالَ: فَنَزَلَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَهُوَ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَقَالَ:"لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمَا سُقْتُ الْهَدْيَ، وَلَكِنْ لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَسُقْتُ هَدْيِي وَلَيْسَ لِي مَحِلٌّ إِلَّا عَلَى مَحِلِّ هَدْيِي". فَقَامَ إِلَيْهِ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِ لَنَا قَضَاءَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، أَعُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"بَلْ لِلْأَبَدِ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، قَالَ: فَدَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي:"بِمَ أَهْلَلْتَ؟" فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لَبَّيْكَ إِهْلَالٌ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الْآخَرُ: لَبَّيْكَ حَجَّةٌ كَحَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
طاؤوس کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپ حج اور عمرہ کا نام نہیں لے رہے تھے بلکہ آپ وحی کے منتظر تھے۔ طاؤوس نے کہا جب آپ صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگا رہے تھے تو آپ پر وحی نازل ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ جس نے ان میں سے حج کے لیے احرام باندھا ہے اور اس کے پاس قربانی نہیں تو وہ اسے عمرہ بنا لے۔ پھر فرمایا: ”اگر مجھے پہلے معلوم ہو جاتا جو بعد میں ہوا تو میں قربانی نہ لاتا لیکن میں نے اپنے سر کے بال چپکا لیے ہیں اور قربانی ساتھ ہانک لایا ہوں، اب میرے لیے قربانی کیے بغیر حلال ہونا درست نہیں ہے۔“ پھر سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کھڑے ہوئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! آپ ہمارے بارے میں ایک نئی، آج کے دن جنم لینے والی قوم کی طرح فیصلہ کریں، یہ حج کو عمرہ کر ڈالنا ہمارے اسی سال کے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے اس کی اجازت ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے اجازت ہے، عمرہ قیامت تک کے لیے (ایامِ) حج میں داخل ہو گیا ہے۔“ اس نے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ (مکہ میں) یمن سے داخل ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”آپ نے کس چیز کا احرام باندھا؟“ ابن طاووس اور ابراہیم بن میسرہ میں سے ایک نے کہا: ”میں نے احرام باندھ کر تلبیہ کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام کی طرح“، اور دوسرے نے کہا: ”میں نے حج کا تلبیہ کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کی طرح۔“ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 805]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لإرساله اخرجه البيهقي: 6/5 . وفى المعرفة السنن والآثار له (2683).»
حدیث نمبر: 806
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ: أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ:"إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ" . أَخْرَجَ الْخَمْسَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، وَإِلَى آخِرِ الثَّامِنِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالثَّامِنُ آخِرُ حَدِيثٍ فِيهِ.
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں کی کیا حالت ہے کہ انہوں نے عمرہ کر کے احرام کھول دیا اور آپ نے اپنے عمرہ سے احرام نہیں کھولا؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر کے بالوں کو چپکایا ہے اور اپنی قربانی کے گلے میں ہار ڈالا ہے، سو میں اس وقت تک احرام نہ کھولوں گا جب تک کہ قربانی ذبح نہ کر لوں۔“ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 806]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الحج، باب التمتع، والقرآن، والإفراد بالحج وفسخ الحج لمن لم يكن معه هدى، رقم: 1566 ـ ومسلم، الحج، باب بيان أن القارة لا يتحلل الا في وقت تحلل الحاج المفرد، رقم: (1329).»