مسند الشافعی سے متعلقہ
53. بَابُ الطَّوَافِ مِنْ وَرَاءِ الْحِجْرِ وَأَنَّ الْحِجْرَ مِنَ الْبَيْتِ
حطیم کے باہر سے طواف کرنے اور حطیم کے بیت اللہ کا حصہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 966
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ طَاوُسٍ، فِيمَا أَحْسَبُ، أَنَّهُ قَالَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: الْحَجَرُ مِنَ الْبَيْتِ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ [الْحَجِّ: 29] . وَقَدْ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”حجر (یعنی حطیم) بیت اللہ کا حصہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور وہ اللہ کے قدیم گھر کا طواف کریں۔“ (الحج: 29) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر (حطیم) کے پیچھے سے طواف کیا۔“ [مسند الشافعی/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 966]
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي: 5 / 90 - وفي معرفة السنن والآثار له (2964) وصححه ابن خزيمة (2740)، والحاكم: (1 / 460).»
حدیث نمبر: 967
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أُخْبِرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"أَلَمْ تَرَيْ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوُا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ؟ قَالَ:"لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكَ بِالْكُفْرِ لَرَدَدْتُهَا عَلَى مَا كَانَتْ" . فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ، إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يَتِمَّ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے معلوم ہے کہ جب تیری قوم نے کعبہ کی تعمیر کی تو بنیادِ ابراہیم علیہ السلام کو چھوڑ دیا تھا؟“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس کو دوبارہ بنیادِ ابراہیم علیہ السلام پر کیوں نہیں بنا دیتے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تیری قوم کا زمانہ کفر سے بالکل نزدیک نہ ہوتا تو میں اس کی اصل بنیاد پر لے آتا۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”اگر عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے (اور یقیناً عائشہ رضی اللہ عنہا نے سنا ہے) تو میں سمجھتا ہوں یہی وجہ ہوگی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حطیم سے متصل دو دیواروں کے کونوں کو نہیں چومتے تھے کیونکہ بیت اللہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر پورا نہ ہوا تھا۔“ [مسند الشافعی/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 967]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب فضل مكة بنيانها (1583) ومسلم، الحج، باب نقض الكعبة وبنيانها (1333).»
حدیث نمبر: 968
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: [ ص: 260 ] أَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، فَجِئْتُ مَعَهُ إِلَى عُمَرَ وَهُوَ فِي الْحِجْرِ، فَسَأَلَهُ عَنْ وِلَادٍ مِنْ وِلَادِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا النُّطْفَةُ فَمِنْ فُلَانٍ، وَأَمَّا الْوَلَدُ فَعَلَى فِرَاشِ فُلَانٍ، فَقَالَ عُمَرُ: صَدَقْتَ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ. فَلَمَّا وَلَّى الشَّيْخُ دَعَاهُ عُمَرُ فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عَنْ بِنَاءِ الْبَيْتِ فَقَالَ: إِنَّ قُرَيْشًا كَانَتْ تَقَوَّتْ لِبِنَاءِ الْبَيْتِ فَعَجِزُوا، فَتَرَكُوا بَعْضَهَا فِي الْحِجْرِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: صَدَقْتَ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ.
ابو یزید نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بنو زہرہ کے ایک بوڑھے کی طرف آدمی بھیجا، تو میں بھی اس کے ساتھ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور وہ حطیم میں تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے جاہلیت کی اولاد کے بارے میں سوال کیا تو اس بوڑھے نے کہا: ”نطفہ کسی کا ہوتا اور بچہ کسی اور کے بستر پر پیدا ہوتا۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تو نے سچ کہا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا کہ بچہ بستر والے کا ہے۔“ جب وہ بوڑھا واپس مڑا تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے بلایا اور پوچھا کہ: ”مجھے بیت اللہ کی تعمیر کے متعلق بتاؤ؟“ اس نے کہا: ”قریش نے کعبہ کی تعمیر کے لیے چندہ جمع کیا لیکن وہ عاجز آگئے تو انہوں نے اس کے بعض حصے کو حطیم میں چھوڑ دیا۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: ”آپ نے صحیح کہا۔“ [مسند الشافعی/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 968]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البيهقي: 7 / 402 - وفي معرفة السنن والآثار له (2965).»