🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشافعی سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:


3. بَابُ مَنْ نَذَرَ طَاعَةً أَوْ مَعْصِيَةً
اطاعت یا گناہ کی نذر ماننے والے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1043
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِأَبِي إِسْرَائِيلَ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الشَّمْسِ، فَقَالَ:"مَا لَهُ"؟ قَالُوا: نَذَرَ أَلَا يَسْتَظِلَّ وَلَا يَقْعُدَ وَلَا يُكَلِّمَ أَحَدًا وَيَصُومَ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَظِلَّ، وَيَقْعُدَ وَأَنْ يُكَلِّمَ النَّاسَ، وَيُتِمَّ صَوْمَهُ وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِكَفَّارَةٍ.
طاؤوس سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو اسرائیل کے پاس سے گزرے اور وہ سورج کی دھوپ میں کھڑا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اسے کیا ہے؟ لوگوں نے کہا، اس نے نذر مانی ہے کہ نہ سائے میں جائے گا، نہ بیٹھے گا، اور نہ ہی کسی سے بات چیت کرے گا اور روزہ رکھے گا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سایہ اختیار کرنے، بیٹھنے اور لوگوں سے بات چیت کرنے اور روزہ مکمل کرنے کا حکم دیا، اور اسے کفارہ کا حکم نہیں دیا۔ [مسند الشافعی/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 1043]
تخریج الحدیث: «صحيح من غير هذا الطريق: اخرجه البخاري، الأيمان والنذور، باب النذر فيما لا يملك وفي معصية (6704).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1044
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ". أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْبَحِيرَةِ وَالسَّائِبَةِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی تو وہ اللہ کی اطاعت کرے اور جس نے اللہ کی نافرمانی کی نذر مانی تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔ [مسند الشافعی/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 1044]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الأيمان والنذور، باب النذر في الطاعة، وما انفقتم من نفقة أو نذر تم من نذر (6696)، (6700).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں