🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشافعی سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:


1. بَابُ تَحْبِيسِ الْأَصْلِ وَتَسْبِيلِ الثَّمَرَةِ
اصل مال کو روک رکھنے اور اس کے نفع کو اللہ کی راہ میں وقف کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1061
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ مَلَكَ مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ اشْتَرَاهَا فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ مَا لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ قَطُّ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى، فَقَالَ:"حَبِّسِ الْأَصْلَ وَسَبِّلِ الثَّمَرَةَ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ خیبر سے سو حصوں کے مالک بنے جنہیں انہوں نے خریدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر فرمایا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا مال ملا ہے کہ اس سے پہلے مجھے اس سے بہتر مال کبھی نہیں ملا، اور میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کروں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باغ کی ملکیت کو تو قائم رکھ، اور اس کا میوہ اللہ کی راہ میں وقف کر دے۔ [مسند الشافعی/كِتَابُ الوَقْفِ وَالعُمْرَى وَالرُّقْبَى/حدیث: 1061]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجة، الصدقات، باب من وقف (2397) والنسائي، الأحباس، باب حبس المشاع (3633، 3634، 3635) وصححه ابن خزيمة (2486) وابن حبان.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1062
أَخْبَرَنِي ابْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِي وَهُوَ عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ مِنْ خَيْبَرَ مَا لَا لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَعْجَبَ إِلَيَّ وَأَعْظَمَ عِنْدِي مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهُ وَسَبَّلْتَ ثَمَرَهُ"، فَتَصَدَّقَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِهِ ثُمَّ حَكَى صَدَقَتَهُ بِهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ کے رسول! مجھے خیبر سے ایسا مال ملا ہے کہ اس سے بہتر اور میرے نزدیک زیادہ عظمت والا مال کبھی نہیں ملا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہے تو باغ کی ملکیت کو قائم رکھ اور اس کے میوہ کو اللہ کی راہ میں وقف کر دے۔ تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کو صدقہ کر دیا، پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے صدقہ کا طریقہ بیان کیا۔ [مسند الشافعی/كِتَابُ الوَقْفِ وَالعُمْرَى وَالرُّقْبَى/حدیث: 1062]
تخریج الحدیث: «صحيح من غيـر هـذا الـطـريـق اخرجه البخارى، الشروط، باب الشروط في الوقف (2737) ومسلم، الوصية، باب الوقف (1632).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1063
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ قَطُّ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهِ إِلَى اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"احْبِسْ أَصْلَهُ وَسَبِّلْ ثَمَرَهُ". أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الرَّضَاعِ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الْبَحِيرَةِ وَالسَّائِبَةِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرمایا کہ عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا مال ملا ہے کہ اس سے بہتر مال مجھے پہلے کبھی نہیں ملا، اور میں نے اس کے ذریعے سے اللہ کا قرب حاصل کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی اصل ملکیت اپنے پاس رکھ، اور اس کے میوہ جات کو اللہ کی راہ میں صدقہ کر دے۔ [مسند الشافعی/كِتَابُ الوَقْفِ وَالعُمْرَى وَالرُّقْبَى/حدیث: 1063]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1061).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں