مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ إِنْكَارِ لَوْنِ الْوَلَدِ وَاسْتِقْرَارِ النِّكَاحِ عَلَى الشُّبْهَةِ
بچے کے رنگ کی وجہ سے اس کی ولدیت کا انکار کرنے اور محض شبہ کے باوجود نکاح کے برقرار رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1204
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ"؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:"أَلْوَانُهَا"؟ قَالَ: حُمْرٌ. قَالَ:"هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ"؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:"أَنَّى تَرَى ذَلِكَ؟" قَالَ: نَزَعَهُ عِرْقٌ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فَلَعَلَّ هَذَا نَزَعَهُ عِرْقٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ گاؤں میں رہنے والوں میں سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کی کہ میری بیوی نے کالا بچہ جنم دیا ہے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تیرے پاس کچھ اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ”ہاں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے رنگ کیسے ہیں؟“ اس نے کہا: ”سرخ“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی سیاہی مائل سفید اونٹ بھی ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ کے خیال میں یہ کہاں سے آگیا؟“ اس نے کہا: ”کسی رگ نے اس کو کھینچ لیا ہے“۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید اسے بھی کوئی دور کی رگ کھینچ لائی ہو“۔ (جس کی وجہ سے کسی دور کے رشتہ دار کے مشابہ پڑنے سے اس کا رنگ کالا ہو گیا ہو)۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ وَالإِيلَاءِ وَالخُلْعِ/حدیث: 1204]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاری،الطلاق، باب اذا عرض نفى الولد (5305) - مسلم، اللعان (1500).»
حدیث نمبر: 1205
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: [ ص: 78 ] أَنَّ أَعْرَابِيًّا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ"؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:"مَا أَلْوَانُهَا"؟ قَالَ: حُمْرٌ. قَالَ:"هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ"؟ قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا. قَالَ:"فَأَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ"؟ قَالَ: لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ، فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَهَذَا لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنی فزارہ قبیلہ سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کی، میری بیوی نے کالا کلوٹا بچہ جنم دیا ہے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تیرے پاس کچھ اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: ”ہاں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ان کے رنگ کیسے ہیں؟“ اس نے کہا: ”سرخ“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ان میں سیاہی مائل سفید بھی ہیں؟“ اس نے کہا: ”ہاں ان میں سیاہ مائل سفید بھی ہیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہاں سے آگئے؟“ اس نے کہا: ”شاید کوئی رگ کھینچ لائی ہو“۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے اس (بچے) کو بھی کوئی رگ کھینچ لائی ہو“۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ وَالإِيلَاءِ وَالخُلْعِ/حدیث: 1205]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، برقم: (1204)»
حدیث نمبر: 1206
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي امْرَأَةً لَا تَرُدُّ يَدَ لَامِسٍ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فَطَلِّقْهَا"، قَالَ: إِنِّي أُحِبُّهَا، قَالَ:"فَأَمْسِكْهَا إِذَنْ". أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ عِشْرَةِ النِّسَاءِ.
عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ ایک ادمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایا اور اس نے عرض کی ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیوی کسی ہاتھ لگانے والے کا ہاتھ نہیں روکتی“۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو طلاق دے دو“۔ اس نے کہا: ”میں اس سے محبت کرتا ہوں (طلاق نہیں دے سکتا)“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اسے روکے رکھو“۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ وَالإِيلَاءِ وَالخُلْعِ/حدیث: 1206]
تخریج الحدیث: «اخرجه البيهقي: 7 / 154 - والنسائي النكاح باب تزويج الزانية (3231) وقال: هذا الحديث ليس بثابت.»