مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابٌ فِي ذَبَائِحِ نَصَارَى الْعَرَبِ
عرب کے نصاریٰ کے ذبیحوں کا بیان
حدیث نمبر: 1532
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعْدٍ الْجَارِيِّ أَوْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا نَصَارَى الْعَرَبِ أَهْلَ كِتَابٍ، وَمَا تَحِلُّ لَنَا ذَبَائِحُهُمْ، وَمَا أَنَا بِتَارِكِهِمْ حَتَّى يُسْلِمُوا أَوْ أَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ.
سعد جاری یا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن سعد سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عرب کے عیسائی اہل کتاب میں سے نہیں ہیں، اور ان کے ذبح کردہ جانور بھی ہمارے لیے حلال نہیں ہیں، اور میں انہیں نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کر لیں یا میں ان کی گردنیں مار دوں۔“ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ وَالصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 1532]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعیف، لضعف شيخ الشافعي اخرجه البيهقي: 9 / 216، 284 - وفي المعرفة السنن والآثار له (5553).»
حدیث نمبر: 1533
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعْدِ الْفَلَحَةِ مَوْلَى عُمَرَ، أَوِ ابْنِ سَعْدِ الْفَلَحَةِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا نَصَارَى الْعَرَبِ بِأَهْلِ كِتَابٍ، وَمَا تَحِلُّ لَنَا ذَبَائِحُهُمْ، وَمَا أَنَا بِتَارِكِهُمْ حَتَّى يُسْلِمُوا أَوْ أَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ.
سعد الفلحہ مولیٰ عمر یا ابن سعد الفلح سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عرب کے عیسائی اہل کتاب میں سے نہیں ہیں، ہمارے لیے ان کے ذبح کردہ جانور بھی حلال نہیں ہیں اور میں ان کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ وہ اسلام نہ لے آئیں یا میں ان سے قتال کروں گا۔“ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ وَالصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 1533]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1532).»
حدیث نمبر: 1534
أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ قَالَ: لَا تَأْكُلُوا ذَبَائِحَ نَصَارَى بَنِي تَغْلِبَ؛ فَإِنَّهُمْ لَمْ يَتَمَسَّكُوا مِنْ دِينِهِمْ إِلَّا بِشُرْبِ الْخَمْرِ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”بنی تغلب کے عیسائیوں کے ذبح کردہ جانور نہ کھاؤ، کیونکہ انہوں نے شراب پینے کے سوا اپنے دین کی کسی بات کو نہیں پکڑا ہے۔“ (یعنی اس کے علاوہ باقی سب پر عمل چھوڑ دیا ہے۔) [مسند امام شافعی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ وَالصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 1534]
تخریج الحدیث: «صحیح: اخرجه البيهقى 9 /284، 217 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5555) - وعبد الرزاق (10034).»
حدیث نمبر: 1535
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ سُفْيَانُ أَوْ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ أَوْ هُمَا، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَا تَأْكُلُوا ذَبَائِحَ نَصَارَى الْعَرَبِ بَنِي تَغْلِبَ؛ فَإِنَّهُمْ لَمْ يَتَمَسَّكُوا مِنْ نَصْرَانِيَّتِهِمْ أَوْ مِنْ دِينِهِمْ إِلَّا بِشُرْبِ الْخَمْرِ. الشَّكُّ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بنی تغلب کے عرب عیسائیوں کے ذبح کردہ جانور نہ کھاؤ، کیونکہ انہوں نے عیسائیت یا اپنے دین میں سے شراب پینے کے علاوہ اور کسی چیز پر بھی عمل نہیں کیا ہے۔“ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ وَالصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 1535]
تخریج الحدیث: «صحيح اخرجه البيهقي: 19/ 217 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5554).»
حدیث نمبر: 1536
قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالَّذِي يُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي إِحْلَالِ ذَبَائِحِهِمْ إِنَّمَا هُوَ مِنْ حَدِيثِ عِكْرِمَةَ، أَخْبَرَنِيهِ ابْنُ الدَّرَاوَرْدِيِّ وَابْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ ثَوْرٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَبْحِ نَصَارَى الْعَرَبِ، فَقَالَ قَوْلًا [ ص: 249 ] حَكَى هُوَ إِحْلَالُهَا، وَتَلَا: وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [الْمَائِدَةِ: 51] وَلَكِنَّ صَاحِبَنَا سَكَتَ عَنِ اسْمِ عِكْرِمَةَ، وَثَوْرٌ لَمْ يَلْقَ ابْنَ عَبَّاسٍ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْجِزْيَةِ، وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ، وَالرَّابِعَ وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ السَّيْرِ عَلَى سِيَرِ الْوَاقِدِيِّ.
عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرب کے عیسائیوں کے ذبح کردہ جانوروں کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے ان کے حلال ہونے کے بارے میں بات کہی اور یہ آیت تلاوت کی: ”جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے وہ انہیں میں سے ہے۔“ (المائدہ: 51) لیکن ہمارے استاد نے عکرمہ کا واسطہ نہیں بیان کیا، اور ثور رحمہ اللہ کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات ہی ثابت نہیں۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ وَالصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ/حدیث: 1536]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح اخرجه البيهقي: 9/ 217 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5557) . ومالك في الموطا: الذبائح، باب ما يجوز من الزكاة على حال الضرورة.»