🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشافعی سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:


4. بَابٌ فِي الْبُعُوثِ
لشکروں کی روانگی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1732
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا بَعَثَ جَيْشًا أَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَمِيرًا، وَقَالَ:"فَإِذَا لَقِيتَ عَدُوًّا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى ثَلَاثِ خِلَالٍ أَوْ ثَلَاثِ خِصَالٍ، شَكَّ عَلْقَمَةُ، ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، فَأَخْبِرْهُمْ إِنْ هُمْ فَعَلُوا أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَيْهِمْ فَإِنِ اخْتَارُوا الْمُقَامَ فِي دَارِهِمْ أَنَّهُمْ كَأَغْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ كَمَا يَجْرِي عَلَى الْمُسْلِمِينَ، وَلَيْسَ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ لَمْ يُجِيبُوكَ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يُعْطَوُا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ، فَإِنْ فَعَلُوا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَدَعْهُمْ، فَإِنْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ تَعَالَى وَقَاتِلْهُمْ".
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر بھیجتے تو اس پر امیر مقرر کرتے اور فرماتے: جب تم اپنے مشرک دشمنوں سے (میدانِ جنگ میں) ملو تو انہیں تین باتوں یا تین خصلتوں کی دعوت دو۔ علقمہ کو ان الفاظ میں شک ہوا ہے۔ انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دو (سب سے پہلے) اگر وہ آپ کی دعوت قبول کرلیں تو ان سے (اسلام) منظور کر لو، اور ان سے اپنی تلوار روک لو، پھر انہیں اگر دعوت اسلام قبول کریں تو اپنا وطن چھوڑ کر جہاں مہاجرین رہتے ہیں وہاں آنے کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ اگر وہ ہجرت کریں گے تو ان کے لیے وہی فوائد ہیں جو مہاجرین کے لیے ہیں اور ان پر وہی فرائض ہوں گے جو مہاجرین پر ہیں۔ اگر وہ اپنی جگہ ہی رہنا چاہیں تو وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوں گے، ان پر بھی اللہ کا حکم اسی طرح جاری ہوگا جیسے دوسرے مسلمانوں پر ہوتا ہے اور ان کے لیے مال فیء میں کچھ نہیں ہے مگر یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں (تو پھر انہیں غنیمت اور فیء سے حصہ ملے گا) اگر وہ اس بات کو ماننے سے انکار کر دیں تو ان کو کہو کہ وہ ذلیل و خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔ اگر وہ یہ کام کرلیں تو ان سے (جزیہ) قبول کر کے انہیں چھوڑ دو، اور اگر وہ اس سے بھی انکار کر دیں تو اللہ سے مدد مانگو اور ان سے قتال کرو۔ [مسند الشافعی/كِتَابُ الجِهَادِ وَقَسْمِ الغَنَائِمِ/حدیث: 1732]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم و الجهاد، باب تأمير الامام الأمراء على البعوث، ووصيته اياهم ..... الخ (1731).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1733
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا بَعَثَ جَيْشًا أَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَمِيرًا... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الْجِزْيَةِ.
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر بھیجتے تو ان پر امیر مقرر کرتے... آگے لمبی حدیث بیان فرمائی۔ [مسند الشافعی/كِتَابُ الجِهَادِ وَقَسْمِ الغَنَائِمِ/حدیث: 1733]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1732).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں