سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
69. باب فِي الْمُحَلِّلِ
باب: گھوڑ دوڑ میں محلل کی شرکت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2579
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ. ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ الْمَعْنَى، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ يَعْنِي وَهُوَ لَا يُؤْمَنُ أَنْ يَسْبِقَ فَلَيْسَ بِقِمَارٍ، وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ وَقَدْ أُمِنَ أَنْ يَسْبِقَ فَهُوَ قِمَارٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دو گھوڑوں کے درمیان ایک گھوڑا داخل کر دے اور گھوڑا ایسا ہو کہ اس کے آگے بڑھ جانے کا یقین نہ ہو تو وہ جوا نہیں، اور جو شخص ایک گھوڑے کو دو گھوڑوں کے درمیان داخل کرے اور وہ اس کے آگے بڑھ جانے کا یقین رکھتا ہو تو وہ جوا ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2579]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دو (مقابلہ کرنے والے) گھوڑوں میں (اپنا) گھوڑا داخل کیا اور اس کے جیت جانے کا یقین نہ ہو تو یہ جوا نہیں ہے، اور جس نے ان میں اپنا گھوڑا داخل کیا جبکہ اسے یقین ہو کہ یہ جیت جائے گا تو یہ جوا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2579]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجھاد 44 (2876)، (تحفة الأشراف: 1321)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/505) (ضعیف) (’’سفیان بن حسین“ زہری سے روایت میں ضعیف ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اِسے متصل بنا دیا ہے جبکہ زہری کے ثقہ تلامذہ نے اس کو مرسلا روایت کیا ہے، جیسا کہ مؤلف نے بیان کیا ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2876)
سفيان بن حسين ثقة لكنه ضعيف عن الزهري
انظر تھذيب التهذيب (108/4) وتقريب التهذيب (2437)
قال ابن عبد الھادي : الأكثر علي تضعيفه في روايته عن الزھري (تنقيح التحقيق 106/3 ح 1597،و في نسخة 236/2،المكتبة الشاملة) وقال ابن حجر : ثقة في غير الزھري باتفاقھم (تقريب التهذيب : 2437)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 94
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2876)
سفيان بن حسين ثقة لكنه ضعيف عن الزهري
انظر تھذيب التهذيب (108/4) وتقريب التهذيب (2437)
قال ابن عبد الھادي : الأكثر علي تضعيفه في روايته عن الزھري (تنقيح التحقيق 106/3 ح 1597،و في نسخة 236/2،المكتبة الشاملة) وقال ابن حجر : ثقة في غير الزھري باتفاقھم (تقريب التهذيب : 2437)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 94
حدیث نمبر: 2580
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ عَبَّادٍ وَمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد:، رَوَاهُ مَعْمَرٌ، وَشُعَيْبٌ، وَعَقِيلٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَهْلِ الْعَلْمِ وَهَذَا أَصَحُّ عِنْدَنَا.
اس سند سے بھی زہری سے عباد والے طریق ہی سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معمر، شعیب اور عقیل نے زہری سے اور زہری نے اہل علم کی ایک جماعت سے روایت کیا ہے اور یہ ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2580]
سیدنا زہری رحمہ اللہ نے بہ سند عباد بن عوام بیان کیا اور مذکورہ بالا کے ہم معنی ذکر کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس روایت کو معمر، شعیب اور عقیل نے بواسطہ زہری کئی علماء سے نقل کیا ہے اور یہ ہمارے نزدیک صحیح تر ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2580]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13118) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن بشير ضعيف (تق : 2276) و قال ابن الملقن : والأكثرون علي تضعيفه (البدر المنير 9/ 85)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 94
إسناده ضعيف
سعيد بن بشير ضعيف (تق : 2276) و قال ابن الملقن : والأكثرون علي تضعيفه (البدر المنير 9/ 85)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 94