السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
138. (بَابُ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ)
(سونے کے بدلے سونے میں برابری)
حدیث نمبر: 214
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ وَرْدَانَ الرُّومِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: إِنِّي رَجُلٌ أَصُوغُ الْحُلِيَّ ثُمَّ أَبِيعُهُ فَأَسْتَفْضِلُ قَدْرَ أُجْرَتِي أَوْ عَمَلَ يَدِي، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ لا فَضْلَ بَيْنَهُمَا هَذَا عَهْدُ صَاحِبِنَا إِلَيْنَا وَعَهْدُنَا إِلَيْكُمْ". حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَعْنِي صَاحِبَنَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
وردان رومی سے روایت ہے انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ ”میں سنار ہوں زیور بنا کر فروخت کرتا ہوں اس سونے سے کٹوتی کر کے اجرت رکھ لیتا ہوں“ (بقیہ جتنا سونے کا پہلے وزن تھا اتنے میں ہی فروخت کرتا ہوں علیحدہ سے اجرت نہیں لیتا مثلا ایک دینار کا زیور بنایا تو اسی سے سونا اپنی مزدوری کاٹ لیا پھر دینار کو اگے سیل کر دیا) تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”سونے (زیور) کا سودا سونے (دینار) سے کرنا ہو تو کمی پیشی جائز نہیں۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ فِي الْبُيُوعِ/حدیث: 214]
تخریج الحدیث: «السنن الكبرى للبيهقي: 275/5، التمهيد لابن عبدالبر: 247/2، معانی الآثار للطحاوي: 66/4، حدیث صحیح .»