🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. بَابُ كَلاَمِ الإِمَامِ وَالنَّاسِ فِي خُطْبَةِ الْعِيدِ، وَإِذَا سُئِلَ الإِمَامُ عَنْ شَيْءٍ وَهْوَ يَخْطُبُ:
باب: عید کے خطبہ میں امام کا اور لوگوں کا باتیں کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q983
وَإِذَا سُئِلَ الْإِمَامُ عَنْ شَيْءٍ وَهُوَ يَخْطُبُ.‏
‏‏‏‏ اور امام کا جواب دینا جب خطبے میں اس سے کچھ پوچھا جائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: Q983]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 983
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَنَسَكَ نُسْكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ، فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ وَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ جَذَعَةٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ فَهَلْ تَجْزِي عَنِّي، قَالَ: نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوالاحوص سلام بن سلیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے منصور بن معتمر نے بیان کیا کہ ان سے عامر شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بقر عید کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس نے ہماری طرح کی نماز پڑھی اور ہماری طرح کی قربانی کی، اس کی قربانی درست ہوئی۔ لیکن جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو وہ ذبیحہ صرف گوشت کھانے کے لیے ہو گا۔ اس پر ابوبردہ بن نیار نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی میں نے تو نماز کے لیے آنے سے پہلے قربانی کر لی میں نے یہ سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے۔ اسی لیے میں نے جلدی کی اور خود بھی کھایا اور گھر والوں کو اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہرحال یہ گوشت (کھانے کا) ہوا (قربانی نہیں) انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک بکری کا سال بھر کا بچہ ہے وہ دو بکریوں کے گوشت سے زیادہ بہتر ہے۔ کیا میری (طرف سے اس کی) قربانی درست ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مگر تمہارے بعد کسی کی طرف سے ایسے بچے کی قربانی کافی نہ ہو گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: 983]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ عید الاضحیٰ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کے بعد خطبہ دیا، آپ نے فرمایا: جس نے ہمارے جیسی نماز پڑھی اور ہماری طرح قربانی کی تو اس نے ہمارے طریقہ قربانی کو حاصل کر لیا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو یہ ایک گوشت کی بکری ہے۔ حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں نے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے قربانی کر دی ہے اور میں نے سوچا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے اس لیے میں نے جلدی کی، خود کھایا، نیز اہل خانہ اور ہمسایوں کو کھلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو گوشت کی بکری ہے (قربانی نہیں)۔ میں نے عرض کیا: میرے پاس ایک ایک سالہ بکری کا بچہ ہے جو دو بکریوں کے گوشت سے بہتر ہے، کیا وہ مجھے قربانی سے کافی ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں! لیکن تیرے بعد کسی کے لیے کافی نہیں ہو گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: 983]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 984
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ خَطَبَ، فَأَمَرَ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ أَنْ يُعِيدَ ذَبْحَهُ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جِيرَانٌ لِي إِمَّا قَالَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَإِمَّا قَالَ بِهِمْ فَقْرٌ وَإِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَعِنْدِي عَنَاقٌ لِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَرَخَّصَ لَهُ فِيهَا".
ہم سے حامد بن عمر نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقر عید کے دن نماز پڑھ کر خطبہ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا اسے دوبارہ قربانی کرنی ہو گی۔ اس پر انصار میں سے ایک صاحب اٹھے کہ یا رسول اللہ! میرے کچھ غریب بھوکے پڑوسی ہیں یا یوں کہا وہ محتاج ہیں۔ اس لیے میں نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا البتہ میرے پاس ایک سال کی ایک پٹھیا ہے جو دو بکریوں کے گوشت سے بھی زیادہ مجھے پسند ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: 984]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحیٰ کے دن نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے میں حکم دیا: جس نے نماز سے پہلے قربانی کی وہ دوبارہ کرے۔ انصار میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرے پڑوسی ہیں جو محتاج ہیں، یا کہا: فقیر ہیں، لہٰذا میں نے ان کی وجہ سے قبل از نماز اپنی قربانی کو ذبح کر دیا اور میرے پاس یک سالہ بکری کا بچہ ہے جو مجھے گوشت کی دو بکریوں سے محبوب تر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہی ذبح کرنے کی اجازت دے دی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: 984]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 985
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ جُنْدَبٍ، قَالَ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ ذَبَحَ، فَقَالَ: مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ أُخْرَى مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے، ان سے جندب نے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بقر عید کے دن نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیا پھر قربانی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو تو اسے دوسرا جانور بدلہ میں قربانی کرنا چاہیے اور جس نے نماز سے پہلے ذبح نہ کیا ہو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: 985]
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحیٰ کے دن نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا، پھر قربانی کی اور دورانِ خطبہ فرمایا: جس نے نماز سے پہلے (قربانی کا جانور) ذبح کیا تو اسے دوسرا جانور ذبح کرنا چاہیے اور جس نے نماز سے پہلے ذبح نہیں کیا اسے چاہیے کہ اب اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: 985]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں