سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
88. باب فِي الْمُصْحَفِ يُسَافَرُ بِهِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ
باب: قرآن کریم کے ساتھ دشمن کی سر زمین میں جانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2610
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ"، قَالَ مَالِكٌ: أُرَاهُ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ.
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کو دشمن کی سر زمین میں لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا ہے، مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے اس واسطے منع کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن اسے پا لے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2610]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ”انسان قرآن مجید لے کر دشمن کے علاقے میں جائے۔“ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میرا خیال ہے اس نہی کی حکمت یہ ہے کہ کہیں یہ دشمن (کافر) کے ہاتھ نہ لگ جائے (اور وہ اس کی ہتک کرے۔)“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجھاد 129 (2990)، (ولیس عندہ قول مالک)، صحیح مسلم/الإمارة 24 (1869)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 45 (2879)، (تحفة الأشراف: 8347)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجھاد 2 (7)، مسند احمد (2/6، 7، 10، 55، 63، 76، 128) (صحیح)» (صحیح مسلم میں آخری ٹکڑا اصلِ حدیث میں سے ہے نہ کہ قولِ مالک سے)
وضاحت: ۱؎: اور اس کی بے حرمتی کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2990) صحيح مسلم (1869)