🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

87. باب فِي الْقَوْمِ يُسَافِرُونَ يُؤَمِّرُونَ أَحَدَهُمْ
باب: ساتھ سفر کرنے والے کسی کو اپنا امیر بنا لیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2608
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا خَرَجَ ثَلَاثَةٌ فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ہوئے کہ اپنے میں سے کسی ایک کو امیر بنا لیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2608]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تین افراد سفر پر نکلیں تو چاہیے کہ ایک کو اپنا امیر مقرر کر لیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2608]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4429) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن عجلان عنعن
وانظر الحديث الآتي (2609)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 95

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2609
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ"، قَالَ نَافِعٌ: فَقُلْنَا لِأَبِي سَلَمَةَ: فَأَنْتَ أَمِيرُنَا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ان میں سے کسی کو امیر بنا لیں ۱؎، نافع کہتے ہیں: تو ہم نے ابوسلمہ سے کہا: آپ ہمارے امیر ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2609]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تین افراد سفر میں ہوں تو چاہیے کہ ایک کو اپنا امیر بنا لیں۔ نافع (مولیٰ ابن عمر رضی اللہ عنہ) نے کہا: (یہ حدیث سننے کے بعد) ہم نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن بن عوف) سے کہا: آپ ہمارے امیر ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2609]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15349) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم اس لئے دیا تا کہ ان میں آپس میں اجتماعیت برقرار رہے اور اختلاف کی نوبت نہ آئے اور ایسا جبھی ممکن ہے جب وہ کسی امیر کے تابع ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2608) لعلته وللحديث طرق ضعيفة
وأخرج الطبراني (الكبير 208/9 ح 8915) بإسناد حسن عن ابن مسعود قال : ’’ إذا كنتم ثلاثة في سفر فأمروا عليكم أحد كم ‘‘ إلخ
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 95

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں