السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
321. (بَابُ الطَّوَافِ عَلَى الرَّاحِلَةِ لِلْعُذْرِ)
(عذر کی بنا پر سواری پر طواف)
حدیث نمبر: 479
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي، فَقَالَ:" طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ"، قَالَتْ: فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ وَالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں (پیدل طواف مشکل ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں سے ہٹ کر سواری پر سوار ہو کر طواف کر لیں“ (تاکہ سواری کی لوگوں کو تکلیف نہ ہو) کہتی ہیں میں نے سواری پر طواف کیا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے اور سورۃ طور کی تلاوت فرما رہے تھے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي فِدْيَةِ الْأَذَىٰ/حدیث: 479]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الصلاۃ، باب ادخال البعیر فی المسجد للعلۃ، رقم: 464، صحیح مسلم، الحج، باب جواز الطواف علی بعیر وغیرہ، رقم: 1276.»