السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
326. (بَابُ التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فِي مَنَاسِكِ الْحَجِّ)
(مناسک حج میں تقدیم و تاخیر)
حدیث نمبر: 484
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أذْبَحْ، فَقَالَ:" اذْبَحْ وَلا حَرَجَ"، فَجَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ فَقَالَ:" ارْمِ وَلا حَرَجَ"، قَالَ: فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلا أُخِّرَ إِلا قَالَ:" افْعَلْ وَلا حَرَجَ".
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منی میں حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کے لیے رکے تاکہ سوال کر لیں تو ایک آدمی آیا کہنے لگا پتہ نہیں چلا میں نے سر قربانی کرنے سے پہلے مونڈ لیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں قربانی کر لے“ ایک دوسرا آدمی آیا کہنے لگا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پتہ نہیں چلا کنکریاں مارنے سے پہلے میں نے قربانی کر ڈالی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بات نہیں کنکریاں اب مار لے“ راوی کہتے ہیں کہ جو بھی تقدیم و تاخیر کا سوال (دس ذوالحجہ کو) ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «افعل ولا حرج» (اب کر لے کوئی حرج نہیں)۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي فِدْيَةِ الْأَذَىٰ/حدیث: 484]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، العلم، باب الفتیا وهو واقف علی الدابۃ، رقم: 83، صحیح مسلم، الحج، باب من حلق قبل النحر او نحر قبل الرمی رقم: 1306.»