🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

107. باب فِي الأَسِيرِ يُكْرَهُ عَلَى الْكُفْرِ
باب: مسلمان قیدی کفر پر مجبور کیا جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2649
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، وَخَالِدٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا: أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لَنَا فَجَلَسَ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ، فَقَالَ:" قَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَيُحْفَرُ لَهُ فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْمِنْشَارِ فَيُجْعَلُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُجْعَلُ فِرْقَتَيْنِ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عَظْمِهِ مِنْ لَحْمٍ وَعَصَبٍ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ وَاللَّهِ لَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَحَضْرمَوْتَ مَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ تَعَالَى، وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ وَلَكِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ".
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر پر تکیہ لگائے ہوئے تھے، ہم نے آپ سے (کافروں کے غلبہ کی) شکایت کی اور کہا: کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد طلب نہیں کرتے؟ کیا آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا نہیں کرتے؟ (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، اور فرمایا: تم سے پہلے آدمی کا یہ حال ہوتا کہ وہ ایمان کی وجہ سے پکڑا جاتا تھا، اس کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا تھا، اس کے سر کو آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا جاتا تھا مگر یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، لوہے کی کنگھیوں سے اس کے ہڈی کے گوشت اور پٹھوں کو نوچا جاتا تھا لیکن یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، اللہ کی قسم! اللہ اس دین کو پورا کر کے رہے گا، یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک جائے گا اور سوائے اللہ کے یا اپنی بکریوں کے سلسلہ میں بھیڑئے کے کسی اور سے نہیں ڈرے گا لیکن تم لوگ جلدی کر رہے ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2649]
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر کو تکیہ بنائے کعبہ کے سائے میں لیٹے ہوئے تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی اور کہا: کیا آپ ہمارے لیے مدد نہیں مانگتے؟ کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا نہیں فرماتے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا اور فرمایا: تم سے پہلے جو لوگ تھے ان میں سے کسی کو پکڑا جاتا اور اس کے لیے گڑھا کھودا جاتا، پھر آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھ کر اسے دو حصے کر دیا جاتا مگر یہ (عذاب بھی) اسے اس کے دین سے نہ پھیرتا تھا، اور (وہ کسی کے ساتھ یوں کرتے کہ) اس کی ہڈیوں تک گوشت اور پٹھوں میں لوہے کی کنگھیاں چلاتے، یہ کارروائی بھی اسے اس کے دین سے نہ پھیرتی تھی۔ اللہ کی قسم! اللہ عزوجل اپنا یہ دین پورا کر کے رہے گا حتیٰ کہ ایک سوار صنعاء اور حضرموت کے درمیان سفر کرے گا، اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہو گا (زیادہ سے زیادہ) بکریوں کے متعلق اندیشہ ہو گا کہ بھیڑیا نہ حملہ کر دے لیکن تم جلدی کر رہے ہو۔ (یعنی صبر و تحمل سے کام لو، اللہ مدد کرے گا۔) [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2649]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المناقب 22 (3466) 25 (3829)، والإکراہ 1 (6544)، (تحفة الأشراف: 3519)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/109، 110، 111، 6/395) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6943)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں