🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

116. باب فِي الْكُمَنَاءِ
باب: کمین (گھات) میں بیٹھنے والوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2662
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يُحَدِّثُ، قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرُّمَاةِ يَوْمَ أُحُدٍ وَكَانُوا خَمْسِينَ رَجُلًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ وَقَالَ: إِنْ رَأَيْتُمُونَا تَخْطِفُنَا الطَّيْرُ فَلَا تَبْرَحُوا مِنْ مَكَانِكُمْ هَذَا حَتَّى أُرْسِلَ إلَيْكُمْ، وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا هَزَمْنَا الْقَوْمَ وَأَوْطَأْنَاهُمْ فَلَا تَبْرَحُوا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ قَالَ: فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ قَالَ: فَأَنَا وَاللَّهِ رَأَيْتُ النِّسَاءَ يَشْتَدِدْنَ عَلَى الْجَبَلِ فَقَالَ: أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرٍ: الْغَنِيمَةَ أَيْ قَوْمِ الْغَنِيمَةَ ظَهَرَ أَصْحَابُكُمْ فَمَا تَنْتَظِرُونَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جُبَيْرٍ: أَنَسِيتُمْ مَا قَالَ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: وَاللَّهِ لَنَأْتِيَنَّ النَّاسَ فَلَنُصِيبَنَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ فَأَتَوْهُمْ فَصُرِفَتْ وُجُوهُهُمْ وَأَقْبَلُوا مُنْهَزِمِينَ.
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد میں عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو تیر اندازوں کا امیر بنایا ان کی تعداد پچاس تھی اور فرمایا: ”اگر تم دیکھو کہ ہم کو پرندے اچک رہے ہیں پھر بھی اپنی اس جگہ سے نہ ہٹنا یہاں تک کہ میں تمہیں بلاؤں اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے کافروں کو شکست دے دی ہے، انہیں روند ڈالا ہے، پھر بھی اس جگہ سے نہ ہٹنا، یہاں تک کہ میں تمہیں بلاؤں“، پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کو شکست دی اور اللہ کی قسم میں نے مشرکین کی عورتوں کو دیکھا کہ بھاگ کر پہاڑوں پر چڑھنے لگیں، عبداللہ بن جبیر کے ساتھی کہنے لگے: لوگو! غنیمت، غنیمت، تمہارے ساتھی غالب آ گئے تو اب تمہیں کس چیز کا انتظار ہے؟ اس پر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم وہ بات بھول گئے جو تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے؟ تو ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ضرور مشرکین کے پاس جائیں گے اور مال غنیمت لوٹیں گے، چنانچہ وہ ہٹ گئے تو اللہ نے ان کے منہ پھیر دئیے اور وہ شکست کھا کر واپس آئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2662]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد والے دن تیر اندازوں کے جتھے پر سیدنا عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا، ان لوگوں کی تعداد پچاس تھی اور ان سے فرمایا تھا: ”اگر تم دیکھو کہ پرندے ہمیں اچک رہے ہیں، تب بھی تم یہ جگہ نہ چھوڑنا حتیٰ کہ میں تمہیں کوئی پیغام بھیجوں۔ اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے کافروں کو شکست دے دی ہے اور ہم ان کو روند رہے ہیں، تب بھی تم یہیں رہنا حتیٰ کہ میں تمہیں بلواؤں۔“ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو شکست سے دوچار کر دیا۔ قسم اللہ کی! میں نے دیکھا ان کی عورتیں (پناہ کے لیے) پہاڑ پر چڑھ رہی تھیں۔ تو عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے (تیر انداز) ساتھیوں نے کہا: ”غنیمت! اے قوم غنیمت! تمہارے ساتھی غالب آ گئے ہیں، تم کیا دیکھ رہے ہو؟“ عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا تم بھول گئے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”قسم اللہ کی! ہم تو لوگوں کے ساتھ مل کر غنیمت جمع کریں گے۔“ چنانچہ وہ چلے آئے، تو ان کے منہ پھیر دیے گئے اور شکست سے دوچار ہوئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2662]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجھاد 164 (3039)، والمغازي 10 (3986)، والتفسیر 10 (4561)، (تحفة الأشراف: 1837)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/294) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3039)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں