سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
153. باب فِي الْمُشْرِكِ يُسْهَمُ لَهُ
باب: لڑائی میں مسلمانوں کے ساتھ مشرک ہو تو اس کو حصہ ملے گا یا نہیں؟
حدیث نمبر: 2732
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْفُضَيْلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ:يَحْيَى إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ لَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقَاتِلَ مَعَهُ فَقَالَ: ارْجِعْ، ثُمَّ اتَّفَقَا فَقَالَ: إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِمُشْرِكٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مشرکوں میں سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر ملا تاکہ آپ کے ساتھ مل کر لڑائی کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوٹ جاؤ، ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجھاد 51 (1817)، سنن الترمذی/السیر 10 (1558)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 27 (2832)، (تحفة الأشراف: 16358)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/67، 148)، سنن الدارمی/السیر 54 (2538) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1817)