سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
160. باب فِي النَّفْلِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَمِنْ أَوَّلِ مَغْنَمٍ
باب: سونے، چاندی اور مال غنیمت سے نفل (انعام) دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2753
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: أَصَبْتُ بِأَرْضِ الرُّومِ جَرَّةً حَمْرَاءَ فِيهَا دَنَانِيرُ، فِي إِمْرَةِ مُعَاوِيَةَ وَعَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَانِي مِنْهَا مِثْلَ مَا أَعْطَى رَجُلًا مِنْهُمْ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا نَفْلَ إِلَّا بَعْدَ الْخُمُسِ لَأَعْطَيْتُكَ"، ثُمَّ أَخَذَ يَعْرِضُ عَلَيَّ مِنْ نَصِيبِهِ فَأَبَيْتُ.
ابو جویریہ جرمی کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں روم کی سر زمین میں مجھے ایک سرخ رنگ کا گھڑا ملا جس میں دینار تھے ۱؎، اس وقت قبیلہ بنو سلیم کے ایک شخص جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، ہمارے اوپر حاکم تھے، ان کو معن بن یزید کہا جاتا تھا، میں اسے ان کے پاس لایا، انہوں نے ان دیناروں کو مسلمانوں میں بانٹ دیا اور مجھ کو اس میں سے اتنا ہی دیا جتنا ہر شخص کو دیا، پھر کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتے سنا نہ ہوتا کہ نفل خمس ۲؎ نکالنے کے بعد ہی ہے تو میں تمہیں اوروں سے زیادہ دیتا، پھر وہ اپنے حصہ سے مجھے دینے لگے تو میں نے لینے سے انکار کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2753]
سیدنا ابو جویریہ جرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں مجھے رومی علاقے میں سرخ رنگ کا ایک گھڑا ملا، اس میں دینار تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بنی سلیم کے ایک فرد سیدنا معن بن یزید رضی اللہ عنہ ہمارے امیر تھے، وہ گھڑا میں ان کے پاس لے آیا۔ پس انہوں نے اسے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا اور مجھے بھی اتنا ہی دیا جتنا کہ دوسروں میں سے ہر ایک کو دیا۔ پھر انہوں نے کہا: ”اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ «لَا نَفْلَ إِلَّا بَعْدَ الْخُمُسِ» ”اضافی انعام (نفل) خمس نکالنے کے بعد ہی ہو سکتا ہے“، تو میں تمہیں بھی دیتا۔“ پھر وہ اپنا حصہ مجھے دینے کی کوشش کرتے رہے مگر میں نے انکار کر دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11484)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/470) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دشمن سے جو مال جہاد میں حاصل ہوتا ہے اسے غنیمت کہتے ہیں، غنیمت میں چار حصے غازیوں میں تقسیم کئے جاتے ہیں، اور ایک حصہ امام رکھ لیتا ہے، امام کو اختیار ہے کہ لشکر میں سے کسی خاص جماعت یا کسی خاص شخص کو کسی خاص کام کے سلسلے میں بطور انعام کچھ زیادہ دے دے، اسے نفل کہتے ہیں، یہ لشکر جو نجد کی طرف گیا تھا اس میں چار ہزار آدمی تھے، ہر ایک کے حصہ میں بارہ اونٹ آئے، لیکن پندرہ آدمیوں کی ایک ٹکڑی کو جن میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے، ایک ایک اونٹ بطور نفل زیادہ دیا۔
۲؎: یہ غنیمت کا مال نہیں ہے جسے کافروں سے لڑ کر چھینا گیا ہو، بلکہ یہ فیٔ کا مال ہے جس میں خمس نہیں ہوتا لہٰذا اس میں نفل بھی نہیں ہو گا۔
۲؎: یہ غنیمت کا مال نہیں ہے جسے کافروں سے لڑ کر چھینا گیا ہو، بلکہ یہ فیٔ کا مال ہے جس میں خمس نہیں ہوتا لہٰذا اس میں نفل بھی نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4009)
مشكوة المصابيح (4009)
حدیث نمبر: 2754
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.
اس سند سے بھی عاصم بن کلیب سے اسی طریق سے اور اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2754]
(بسندِ ہناد) عاصم بن کلیب نے اپنی سند سے ”مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی“ بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11484) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح