Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
160. باب في النفل من الذهب والفضة ومن أول مغنم
باب: سونے، چاندی اور مال غنیمت سے نفل (انعام) دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2753
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: أَصَبْتُ بِأَرْضِ الرُّومِ جَرَّةً حَمْرَاءَ فِيهَا دَنَانِيرُ، فِي إِمْرَةِ مُعَاوِيَةَ وَعَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَانِي مِنْهَا مِثْلَ مَا أَعْطَى رَجُلًا مِنْهُمْ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا نَفْلَ إِلَّا بَعْدَ الْخُمُسِ لَأَعْطَيْتُكَ"، ثُمَّ أَخَذَ يَعْرِضُ عَلَيَّ مِنْ نَصِيبِهِ فَأَبَيْتُ.
ابو جویریہ جرمی کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں روم کی سر زمین میں مجھے ایک سرخ رنگ کا گھڑا ملا جس میں دینار تھے ۱؎، اس وقت قبیلہ بنو سلیم کے ایک شخص جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، ہمارے اوپر حاکم تھے، ان کو معن بن یزید کہا جاتا تھا، میں اسے ان کے پاس لایا، انہوں نے ان دیناروں کو مسلمانوں میں بانٹ دیا اور مجھ کو اس میں سے اتنا ہی دیا جتنا ہر شخص کو دیا، پھر کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتے سنا نہ ہوتا کہ نفل خمس ۲؎ نکالنے کے بعد ہی ہے تو میں تمہیں اوروں سے زیادہ دیتا، پھر وہ اپنے حصہ سے مجھے دینے لگے تو میں نے لینے سے انکار کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11484)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/470) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: دشمن سے جو مال جہاد میں حاصل ہوتا ہے اسے غنیمت کہتے ہیں، غنیمت میں چار حصے غازیوں میں تقسیم کئے جاتے ہیں، اور ایک حصہ امام رکھ لیتا ہے، امام کو اختیار ہے کہ لشکر میں سے کسی خاص جماعت یا کسی خاص شخص کو کسی خاص کام کے سلسلے میں بطور انعام کچھ زیادہ دے دے، اسے نفل کہتے ہیں، یہ لشکر جو نجد کی طرف گیا تھا اس میں چار ہزار آدمی تھے، ہر ایک کے حصہ میں بارہ اونٹ آئے، لیکن پندرہ آدمیوں کی ایک ٹکڑی کو جن میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے، ایک ایک اونٹ بطور نفل زیادہ دیا۔
۲؎: یہ غنیمت کا مال نہیں ہے جسے کافروں سے لڑ کر چھینا گیا ہو، بلکہ یہ فیٔ کا مال ہے جس میں خمس نہیں ہوتا لہٰذا اس میں نفل بھی نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4009)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معن بن يزيد السلمي، أبو يزيدصحابي
👤←👥حطان بن خفاف الجرمي، أبو الجويرية
Newحطان بن خفاف الجرمي ← معن بن يزيد السلمي
ثقة
👤←👥عاصم بن كليب الجرمي
Newعاصم بن كليب الجرمي ← حطان بن خفاف الجرمي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن محمد الفزاري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن محمد الفزاري ← عاصم بن كليب الجرمي
إمام ثقة حافظ
👤←👥محبوب بن موسى الأنطاكي، أبو صالح
Newمحبوب بن موسى الأنطاكي ← إبراهيم بن محمد الفزاري
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2753
لا نفل إلا بعد الخمس لأعطيتك
بلوغ المرام
1111
لا نفل إلا بعد الخمس
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2753 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2753
فوائد ومسائل:

چونکہ یہ مال دارالحرب سے بغیر کسی آویزش کے حاصل ہوا تھا اور ایسے مال میں خمس ہوتا ہے نہ نفل۔
کیونکہ خمس اور نفل (اضافی انعام) دونوں ہی قتال سے حاصل ہونے والے مال میں ہوتے ہیں۔
اور یہ گھڑا ویسے ہی ملا تھا۔
اس لئے اس میں سبھی مجاہدین کو برابر کے حصے دیئے۔


اس میں مسئلۃ الباب کا اثبات تو میں تمھیں بھی دیتا سے ہوتا ہے۔
یعنی ان دیناروں میں سے تجھے نفل دیتا۔
اور دینار سونے کا ہوتا تھا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2753]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1111
(جہاد کے متعلق احادیث)
سیدنا معن بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے حصہ سے اضافی طور پر جو کچھ دیا جائے گا وہ پانچواں حصہ نکال کر دیا جائے۔ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور طحاوی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1111»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الجهاد، باب في النفل من الذهب والفضة ومن أول مغنم، حديث:2753، وأحمد:3 /470.»
تشریح:
1. یہاں دو مسئلے قابل غور ہیں: پہلا یہ کہ یہ اضافی اور زائد حصہ اصل مال غنیمت میں سے دیا جائے گا یا خمس میں سے؟ اس حدیث میں ان دونوں باتوں میں سے کسی کی صراحت نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ نفل (زائد حصہ) دینے سے پہلے غنیمت کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔
جبکہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ نفل خواہ اصل غنیمت سے دیا جائے یا خمس سے‘ دونوں طرح جائز ہے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کیا نفل، خمس سے پہلے دینا جائز ہے یا نہیں؟ اس حدیث کے ظاہر سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا کوئی جواز نہیں لیکن حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی سابقہ حدیث (۱۱۰۹) کے ایک دوسرے طریق سے ثابت الفاظ اس کے جواز پر دلالت کرتے ہیں۔
2. اس روایت میں یہ صراحت ہے کہ نجد کی جانب بھیجے جانے والے مجاہدین کو خمس نکالنے سے پہلے نفل دیا گیا تھا۔
ملاحظہ ہو: (سنن أبي داود مع شرح عون المعبود:۳ /۲۲) لہٰذا اس حدیث میں موجود نہی کا ظاہری مفہوم مراد نہیں بلکہ نہی تنزیہی ہے۔
راویٔ حدیث:
«حضرت معن بن یزید رضی اللہ عنہما» ‏‏‏‏ معن بن یزید بن اخنس سلمی۔
خود بھی صحابی اور باپ بھی صحابی ہیں۔
فتح دمشق میں یہ بھی حاضر تھے۔
کوفہ میں رہائش اختیار کی‘ پھر مصر میں آئے‘ بعد میں پھر دمشق میں منتقل ہو گئے۔
مرج راہط کی جنگ میں ضحاک بن قیس کے ساتھ ۶۴ ہجری میں شامل ہوئے اور شہید ہو گئے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی لڑائیوں میں شریک رہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1111]