سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب الرَّجُلُ يَأْخُذُ مِنْ شَعْرِهِ فِي الْعَشْرِ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُضَحِّيَ
باب: قربانی کا ارادہ کرنے والا ذی الحجہ کے پہلے عشرہ میں بال نہ کاٹے۔
حدیث نمبر: 2791
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُسْلِمٍ اللَّيْثِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ:سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ": مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا أَهَلَّ هِلَالُ ذِي الْحِجَّةِ فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا حَتَّى يُضَحِّيَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: اخْتَلَفُوا عَلَى مَالِكٍ، وَعَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو فِي عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ بَعْضُهُمْ: عُمَرُ وَأَكْثَرُهُمْ قَالَ: عَمْرٌو، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ عَمْرُو بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيُّ الْجُنْدُعِيُّ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی کا جانور ہو اور وہ اسے عید کے روز ذبح کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو جب عید کا چاند نکل آئے تو وہ قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ کترے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الضَّحَايَا/حدیث: 2791]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس کوئی جانور ہو جسے وہ (قربانی کے لیے) ذبح کرنا چاہتا ہو تو ذوالحجہ کا چاند نظر آ جانے کے بعد اپنے بال اور ناخن ہرگز نہ کاٹے حتیٰ کہ قربانی کر لے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”امام مالک اور محمد بن عمرو کے تلامذہ کا ”عمرو بن مسلم اللیثی“ کے نام میں اختلاف ہے، کچھ اسے عمر بن مسلم کہتے ہیں، جبکہ اکثر نے عمرو کہا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”یہ عمرو بن مسلم بن اکیمہ اللیثی الجندعی ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الضَّحَايَا/حدیث: 2791]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأضاحي 3 (1977)، سنن الترمذی/الأضاحي 24 (1523)، سنن النسائی/الضحایا 1 (4366)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 11 (3149)، (تحفة الأشراف: 18152)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/289، 301، 311)، سنن الدارمی/الأضاحي 2 (1990) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جمہور کے نزدیک یہ حکم مستحب ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1977)