سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب مَا جَاءَ فِي نَسْخِ الْوَصِيَّةِ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ
باب: ماں باپ اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کے منسوخ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2869
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ سورة البقرة آية 180 فَكَانَتِ الْوَصِيَّةُ كَذَلِكَ حَتَّى نَسَخَتْهَا آيَةُ الْمِيرَاثِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «إن ترك خيرا الوصية للوالدين والأقربين» ”اگر مال چھوڑ جاتا ہو تو اپنے ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے اچھائی کے ساتھ وصیت کر جائے“ (سورۃ البقرہ: ۱۸۰)، وصیت اسی طرح تھی (جیسے اس آیت میں مذکور ہے) یہاں تک کہ میراث کی آیت نے اسے منسوخ کر دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: 2869]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت ﴿إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة البقرة: 180] ”اگر مال چھوڑ جائے تو ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے وصیت کرے۔“ کا حکم ابتدا میں ایسے ہی تھا حتیٰ کہ اسے آیت میراث نے منسوخ کر دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْوَصَايَا/حدیث: 2869]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:6260)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الوصایا 28 (3306) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن