سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب مَا جَاءَ فِي تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ
باب: علم فرائض سیکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2885
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْروِ بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ فَضْلٌ آيَةٌ مُحْكَمَةٌ، أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ، أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اصل) علم تین ہیں اور ان کے علاوہ علوم کی حیثیت فضل (زائد) کی ہے: آیت محکمہ ۲؎، یا سنت قائمہ ۳؎، یا فریضہ عادلہ ۴؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2885]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم تین چیزوں کا نام ہے، اور جو ان کے علاوہ ہے وہ اضافی ہے (بنیادی نہیں)؛ محکم آیات، ثابت شدہ سنتیں اور مالی حقوق جو عدل پر مبنی ہوں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2885]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المقدمة 8 (54)، (تحفة الأشراف: 8876) (ضعیف)» (اس کے راوی دونوں عبد الرحمن ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: فرائض فریضہ کی جمع ہے یعنی اللہ کے مقرر کردہ حصے۔
۲؎: یعنی غیر منسوخ قرآن کا علم۔
۳؎: یعنی صحیح احادیث کا علم۔
۴؎: فرائض کا علم، جس سے ترکے کی تقسیم انصاف کے ساتھ ہو سکے۔
۲؎: یعنی غیر منسوخ قرآن کا علم۔
۳؎: یعنی صحیح احادیث کا علم۔
۴؎: فرائض کا علم، جس سے ترکے کی تقسیم انصاف کے ساتھ ہو سکے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (54)
الإفريقي ضعيف
ولحديثه شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 104
إسناده ضعيف
ابن ماجه (54)
الإفريقي ضعيف
ولحديثه شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 104