🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. باب فِي الْوَلاَءِ
باب: ولاء (آزاد کیے ہوئے غلام کی میراث) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2915
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ وَأَنَا حَاضِرٌ، قَالَ مَالِكٌ: عَرَضَ عَلَيَّ نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تَعْتِقُهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَاكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ" لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی خرید کر آزاد کرنا چاہا تو اس کے مالکوں نے کہا کہ ہم اسے اس شرط پر آپ کے ہاتھ بیچیں گے کہ اس کا حق ولاء ۱؎ ہمیں حاصل ہو، عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: یہ ”خریدنے میں تمہارے لیے رکاوٹ نہیں کیونکہ ولاء اسی کا ہے جو آزاد کرے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2915]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارادہ کیا کہ ایک لونڈی خرید کر آزاد کر دیں، تو لونڈی کے مالکوں نے کہا: ”ہم یہ آپ کو فروخت کر دیتے ہیں، لیکن اس کا ولاء ہمارے لیے رہے گا، (اس کی وفات پر اس کا مال ہم لیں گے یا نسبت ولاء ہم سے متعلق رہے گے۔)“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ان کی یہ بات) تیرے لیے کوئی مانع نہیں ہے، کیونکہ ولاء اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2915]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 73 (2169)، والمکاتب 2 (2562)، والفرائض 19 (6752)، صحیح مسلم/العتق 2 (1504)، سنن النسائی/البیوع 76 (4648)، (تحفة الأشراف: 8334)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العتق 10 (18)، مسند احمد (2/28، 113، 153، 156) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ولاء اس میراث کو کہتے ہیں جو آزاد کردہ غلام یا عقد موالاۃ کی وجہ سے حاصل ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2169) صحيح مسلم (1504)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2916
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ وَوَلِيَ النِّعْمَةَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء اس شخص کا حق ہے جو قیمت دے کر خرید لے اور احسان کرے (یعنی خرید کر غلام کو آزاد کر دے)“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2916]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء اسی کا حق ہے جو قیمت ادا کرے اور احسان کرے (آزادی دلائے)۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2916]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الفرائض 20 (6760)، سنن النسائی/الطلاق 30 (3479)، (تحفة الأشراف: 17432، 15991)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/العتق 20 (1504)، سنن الترمذی/البیوع 33 (2126)، مسند احمد (6/170، 186، 189) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6754)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2917
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رِئَابَ بْنَ حُذَيْفَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَوَلَدَتْ لَهُ ثَلَاثَةَ غِلْمَةٍ، فَمَاتَتْ أُمُّهُمْ فَوَرَّثُوهَا رِبَاعَهَا، وَوَلَاءَ مَوَالِيهَا، وَكَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَصَبَةَ بَنِيهَا فَأَخْرَجَهُمْ إِلَى الشَّامِ فَمَاتُوا، فَقَدَّمَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَمَاتَ مَوْلًى لَهَا وَتَرَكَ مَالًا لَهُ فَخَاصَمَهُ إِخْوَتُهَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ عُمَرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَحْرَزَ الْوَلَدُ أَوِ الْوَالِدُ فَهُوَ لِعَصَبَتِهِ مَنْ كَانَ"، قَالَ: فَكَتَبَ لَهُ كِتَابًا فِيهِ شَهَادَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَرَجُلٍ آخَرَ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عَبْدُ الْمَلِكِ اخْتَصَمُوا إِلَى هِشَامِ بْنِ إِسْمَاعِيل، أَوْ إِلَى إِسْمَاعِيل بْنِ هِشَامٍ فَرَفَعَهُمْ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ، فَقَالَ: هَذَا مِنَ الْقَضَاءِ الَّذِي مَا كُنْتُ أَرَاهُ، قَالَ: فَقَضَى لَنَا بِكِتَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَنَحْنُ فِيهِ إِلَى السَّاعَةِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رئاب بن حذیفہ نے ایک عورت سے شادی کی، اس کے بطن سے تین لڑکے پیدا ہوئے، پھر لڑکوں کی ماں مر گئی، اور وہ لڑکے اپنی ماں کے گھر کے اور اپنی ماں کے آزاد کئے ہوئے غلاموں کی ولاء کے مالک ہوئے، اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ان لڑکوں کے عصبہ (یعنی وارث) ہوئے اس کے بعد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے انہیں شام کی طرف نکال دیا، اور وہ وہاں مر گئے تو عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ آئے اور اس عورت کا ایک آزاد کیا ہوا غلام مر گیا اور مال چھوڑ گیا تو اس عورت کے بھائی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اس عورت کے ولاء کا مقدمہ لے گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ولاء اولاد یا باپ حاصل کرے تو وہ اس کے عصبوں کو ملے گی خواہ کوئی بھی ہو (اولاد کے یا باپ کے مر جانے کے بعد ماں کے وارثوں کو نہ ملے گی)“ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس باب میں ایک فیصلہ نامہ لکھ دیا اور اس پر عبدالرحمٰن بن عوف اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما اور ایک اور شخص کی گواہی ثابت کر دی، جب عبدالملک بن مروان خلیفہ ہوئے تو پھر ان لوگوں نے جھگڑا کیا یہ لوگ اپنا مقدمہ ہشام بن اسماعیل یا اسماعیل بن ہشام کے پاس لے گئے انہوں نے عبدالملک کے پاس مقدمہ کو بھیج دیا، عبدالملک نے کہا: یہ فیصلہ تو ایسا لگتا ہے جیسے میں اس کو دیکھ چکا ہوں۔ راوی کہتے ہیں پھر عبدالملک نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ دیا اور وہ ولاء اب تک ہمارے پاس ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2917]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رئاب بن حذیفہ نے ایک عورت سے شادی کی، تو اس سے ان کے تین لڑکے پیدا ہوئے، پھر ان کی ماں فوت ہو گئی تو وہ بچے اپنی ماں کے گھروں اور غلاموں کے ولاء کے وارث ہوئے۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ان بچوں کے عصبہ تھے (یعنی وارث تھے)۔ وہ انہیں شام لے گئے جو وہاں جا کر فوت ہو گئے۔ (یہ بچے طاعونِ عمواس میں فوت ہوئے تھے)۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ واپس آئے جبکہ اس عورت کا ایک غلام بھی وفات پا گیا اور مال چھوڑ گیا تھا، تو عورت کے بھائیوں نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے (اپنی بہن کے ولاء کے سلسلے میں) جھگڑا کیا اور معاملہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”بیٹے نے یا باپ نے جو بھی جمع کیا ہو وہ اس کے «عَصَبَة» ”عصبہ“ کا ہوتا ہے جو بھی ہوں۔“ چنانچہ انہوں نے (اس فیصلے کی) ایک تحریر لکھی جس میں سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ایک آدمی کی گواہی ثبت کی۔ پھر جب عبدالملک خلیفہ ہوئے تو عورت کے بھائیوں نے یہ مقدمہ ہشام بن اسماعیل یا اسماعیل بن ہشام کے سامنے پیش کیا۔ اس نے ان کو عبدالملک کے ہاں بھیج دیا۔ تو عبدالملک نے کہا: ”یہ وہی فیصلہ ہے جو میرا خیال ہے میں پہلے دیکھ چکا ہوں۔“ چنانچہ اس نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تحریر کے مطابق ہمارے حق میں فیصلہ کر دیا اور اب تک ہم اسی میں ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 2917]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الفرائض 7 (2732)، (تحفة الأشراف: 10581، 18598)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/27) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (2732 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
قال الشيخ زبير على زئي: