سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب فِي الشَّهِيدِ يُغَسَّلُ
باب: شہید کو غسل دینے کا مسئلہ؟
حدیث نمبر: 3133
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى. ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" رُمِيَ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فِي صَدْرِهِ، أَوْ فِي حَلْقِهِ، فَمَاتَ، فَأُدْرِجَ فِي ثِيَابِهِ كَمَا هُوَ، قَالَ: وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص سینے یا حلق میں تیر لگنے سے مر گیا تو اسی طرح اپنے کپڑوں میں لپیٹا گیا جیسے وہ تھا، اس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3133]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ایک شخص کو اس کے سینے یا حلق میں ایک تیر آ لگا اور وہ فوت ہو گیا تو اسے اسی طرح اس کے کپڑوں میں لپیٹ دیا گیا۔“ کہتے ہیں: ”(اس واقعہ میں) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3133]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2647)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/367) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو الزبير مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 115
إسناده ضعيف
أبو الزبير مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 115
حدیث نمبر: 3134
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلَى أُحُدٍ، أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمُ الْحَدِيدُ، وَالْجُلُودُ، وَأَنْ يُدْفَنُوا بِدِمَائِهِمْ وَثِيَابِهِمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے مقتولین (شہداء) کے بارے میں حکم دیا کہ ان کی زرہیں اور پوستینیں ان سے اتار لی جائیں، اور انہیں ان کے خون اور کپڑوں سمیت دفن کر دیا جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3134]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کے متعلق فرمایا تھا: ”ان کے ہتھیار اور (چمڑے کی) پوستین اتار لیے جائیں اور انہیں ان کے خونوں اور کپڑوں ہی میں دفن کیا جائے۔“ یہ الفاظ زیاد بن ایوب کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3134]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجنائز 28 (1515)، (تحفة الأشراف: 5570)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/247) (ضعیف)» (اس کے راوی علی بن عاصم اور عطاء بن السائب اخیر میں مختلط ہو گئے تھے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1515)
عطاء بن السائب اختلط وعلي بن عاصم ضعيف (انظر ضعيف سنن الترمذي : 1073)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 115
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1515)
عطاء بن السائب اختلط وعلي بن عاصم ضعيف (انظر ضعيف سنن الترمذي : 1073)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 115
حدیث نمبر: 3135
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ. ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، وَهَذَا لَفْظُهُ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ: أَنَّ شُهَدَاءَ أُحُدٍ لَمْ يُغَسَّلُوا، وَدُفِنُوا بِدِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِمْ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ شہدائے احد کو غسل نہیں دیا گیا وہ اپنے خون سمیت دفن کئے گئے اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3135]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”شہدائے احد کو غسل نہیں دیا گیا، انہیں ان کے خونوں کے ساتھ ہی دفن کر دیا گیا اور جنازہ بھی نہیں پڑھا گیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3135]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1478) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3136
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ يَعْنِي الْمَرْوَانِيَّ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، الْمَعْنَى أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى حَمْزَةَ، وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا، لَتَرَكْتُهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الْعَافِيَةُ. حتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِهَا، وَقَلَّتِ الثِّيَابُ، وَكَثُرَتِ الْقَتْلَى، فَكَانَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ يُكَفَّنُونَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، زَادَ قُتَيْبَةُ: ثُمَّ يُدْفَنُونَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ:" أَيُّهُمْ أَكْثَرُ قُرْآنًا؟ فَيُقَدِّمُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (غزوہ احد میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ (حمزہ بن عبدالمطلب) رضی اللہ عنہ کی لاش کے قریب سے گزرے، ان کا مثلہ کر دیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا: ”اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ صفیہ (حمزہ کی بہن) اپنے دل میں کچھ محسوس کریں گی تو میں انہیں یوں ہی چھوڑ دیتا، پرندے کھا جاتے، پھر وہ حشر کے دن ان کے پیٹوں سے نکلتے“۔ اس وقت کپڑوں کی قلت تھی اور شہیدوں کی کثرت، (حال یہ تھا) کہ ایک کپڑے میں ایک ایک، دو دو، تین تین شخص کفنائے جاتے تھے ۱؎۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ: پھر وہ ایک ہی قبر میں دفن کئے جاتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے کہ ان میں قرآن کس کو زیادہ یاد ہے؟ تو جسے زیادہ یاد ہوتا اسے قبلہ کی جانب آگے رکھتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3136]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جب کہ ان کا مثلہ کیا گیا تھا (ان کی نعش سے ناک اور کان وغیرہ کاٹ لیے گئے تھے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ بات نہ ہو کہ (ان کی بہن) صفیہ رضی اللہ عنہا سے برداشت نہیں ہو سکے گا تو میں اسے (سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی نعش کو) ایسے ہی چھوڑ دوں حتیٰ کہ اسے درندے اور پرندے کھا جائیں اور پھر یہ ان کے پیٹوں ہی سے محشر میں آئیں“ اور (احد میں) کپڑے کم پڑ گئے اور مقتولین کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی تو ایک ایک، دو دو اور تین تین کو ایک ہی کپڑے میں کفن دیا گیا۔ قتیبہ نے مزید کہا: ”اور ایک ایک قبر میں دفن کیے گئے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے متعلق دریافت فرماتے جاتے تھے کہ ”ان میں سے قرآن کس کو زیادہ یاد ہے؟“ پھر اسے قبلہ کی جانب آگے کر دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3136]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/ الجنائز 31 (1016)، (تحفة الأشراف: 1477)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/128) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت ایک کفن یا ایک قبر میں کئی آدمیوں کو دفنانا درست ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1016)
الزھري مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 116
إسناده ضعيف
ترمذي (1016)
الزھري مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 116
حدیث نمبر: 3137
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحَمْزَةَ، وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ،" وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرِهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، دیکھا کہ ان کا مثلہ کر دیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ کسی اور کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3137]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے (اور دیکھا کہ) ان کا مثلہ کیا گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سوا کسی اور کا جنازہ نہیں پڑھا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3137]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1479) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: چوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کی نماز جنازہ نہیں پڑھی، اس لئے بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ آپ نے ان کے لئے دعا کی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزھري مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 116
إسناده ضعيف
الزھري مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 116
حدیث نمبر: 3138
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ: أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ، وَيَقُولُ: أَيُّهُمَا أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟ فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا، قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ: أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُغَسَّلُوا".
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو ایک ساتھ دفن کرتے تھے اور پوچھتے تھے کہ ان میں قرآن کس کو زیادہ یاد ہے؟ تو جس کے بارے میں اشارہ کر دیا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قبر میں (لٹانے میں) آگے کرتے اور فرماتے: ”میں ان سب پر قیامت کے دن گواہ رہوں گا“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے خون سمیت دفنانے کا حکم دیا، اور انہیں غسل نہیں دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3138]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہدائے احد میں سے دو دو آدمیوں کو اکٹھا کرتے اور دریافت فرماتے: ”ان میں قرآن کسے زیادہ یاد ہے؟“ جب کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لحد میں آگے رکھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں قیامت کے روز ان کے لیے گواہ ہوں گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں ان کے خونوں ہی میں دفن کیا جائے اور انہیں غسل نہیں دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3138]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 72 (1343)، 73 (1345)، 75 (1347)، 78 (1353)، المغازي 26 (4079)، سنن الترمذی/الجنائز 46 (1036)، سنن النسائی/الجنائز 62 (1957)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 28 (1514)، (تحفة الأشراف: 2382) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1343)
حدیث نمبر: 3139
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ: بِهَذَا الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ.
اس سند سے بھی لیث سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو ایک ساتھ ایک ہی کپڑے میں دفن کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3139]
سیدنا لیث رحمہ اللہ نے اس حدیث کو مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا اور کہا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد میں سے دو دو آدمیوں کو ایک ایک کفن میں اکٹھا کیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3139]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 2382) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (3138)
انظر الحديث السابق (3138)