🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

32. باب فِي سَتْرِ الْمَيِّتِ عِنْدَ غَسْلِهِ
باب: میت کو غسل دیتے ہوئے اس کے لیے پردہ کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3140
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُبْرِزْ فَخِذَكَ، وَلَا تَنْظُرَنَّ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ، وَلَا مَيِّتٍ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی ران کو مت کھولو اور کسی زندہ و مردہ کی ران کو ہرگز نہ دیکھو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3140]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ران عریاں نہ کر اور نہ کبھی کسی زندہ یا میت کی ران کو دیکھ۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3140]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الجنائز 8 (1460)، (تحفة الأشراف: 10133)، وقد أخرجہ: حم (1/146) (ضعیف جداً)» ‏‏‏‏ (سند میں دو جگہ انقطاع ہے: ابن جریج اور حبیب کے درمیان، اور حبیب و عاصم کے درمیان)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف جدًا
ابن ماجه (1460) والحديث الآتي (4015)
حبيب عنعن والواسطة بينه وبين شيخه ھو عمرو بن خالد الواسطي والواسطي متروك رماه وكيع بالكذب (تق : 5021)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 116

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3141
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: لَمَّا أَرَادُوا غَسْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا نَدْرِي، أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثِيَابِهِ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا، أَمْ نَغْسِلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ؟ فَلَمَّا اخْتَلَفُوا أَلْقَى اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّوْمَ. حتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَذَقْنُهُ فِي صَدْرِهِ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ مُكَلِّمٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، لَا يَدْرُونَ مَنْ هُوَ: أَنِ اغْسِلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ، فَقَامُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَسَلُوهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ، يَصُبُّونَ الْمَاءَ فَوْقَ الْقَمِيصِ، وَيُدَلِّكُونَهُ بِالْقَمِيصِ دُونَ أَيْدِيهِمْ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا غَسَلَهُ إِلَّا نِسَاؤُهُ.
عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو کہنے لگے: قسم اللہ کی! ہمیں نہیں معلوم کہ ہم جس طرح اپنے مردوں کے کپڑے اتارتے ہیں آپ کے بھی اتار دیں، یا اسے آپ کے بدن پر رہنے دیں اور اوپر سے غسل دے دیں، تو جب لوگوں میں اختلاف ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند طاری کر دی یہاں تک کہ ان میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں تھا جس کی ٹھڈی اس کے سینہ سے نہ لگ گئی ہو، اس وقت گھر کے ایک گوشے سے کسی آواز دینے والے کی آواز آئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اپنے پہنے ہوئے کپڑوں ہی میں غسل دو، آواز دینے والا کون تھا کوئی بھی نہ جان سکا، (یہ سن کر) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھ کر آئے اور آپ کو کرتے کے اوپر سے غسل دیا لوگ قمیص کے اوپر سے پانی ڈالتے تھے اور قمیص سمیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک ملتے تھے نہ کہ اپنے ہاتھوں سے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: اگر مجھے پہلے یاد آ جاتا جو بعد میں یاد آیا، تو آپ کی بیویاں ہی آپ کو غسل دیتیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3141]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینا چاہا تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں معلوم نہیں کہ آیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے اتاریں جیسے کہ ہم اپنی میتوں کے اتار دیتے ہیں یا انہیں ان کے کپڑوں سمیت ہی غسل دیں۔ پس جب ان کا اس بارے میں اختلاف ہوا، تو اللہ نے ان پر نیند طاری کر دی، ان میں سے کوئی بھی نہ بچا مگر اس کی ٹھوڑی اس کے سینے سے جا لگی۔ پھر گھر کی جانب سے ایک بات کرنے والے نے بات کی، کسی کو خبر نہیں کہ وہ کون تھا کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے کپڑوں سمیت ہی غسل دو۔ چنانچہ وہ اٹھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قمیص سمیت غسل دیا۔ وہ قمیص کے اوپر ہی سے پانی ڈالتے جاتے تھے اور آپ کی قمیص ہی سے آپ کو ملتے جاتے تھے بغیر اس کے کہ آپ کے جسم کو ان کے ہاتھ لگیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں: اگر مجھے اس معاملے کا پہلے علم ہو جاتا جس کا بعد میں ہوا ہے، تو آپ کو آپ کی ازواج ہی غسل دیتیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3141]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الجنائز 9 (1464)، (تحفة الأشراف: 16180)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/267) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5948)
أخرجه ابن ماجه (1464 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں