صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ الدُّعَاءِ إِذَا كَثُرَ الْمَطَرُ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا:
باب: جب بارش حد سے زیادہ ہو تو اس بات کی دعا کہ ہمارے یہاں بارش بند ہو جائے اور اردگرد برسے۔
حدیث نمبر: 1021
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ جُمُعَةٍ، فَقَامَ النَّاسُ فَصَاحُوا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَاحْمَرَّتِ الشَّجَرُ وَهَلَكَتِ الْبَهَائِمُ فَادْعُ اللَّهَ يَسْقِينَا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اسْقِنَا مَرَّتَيْنِ وَايْمُ اللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً مِنْ سَحَابٍ فَنَشَأَتْ سَحَابَةٌ وَأَمْطَرَتْ وَنَزَلَ عَنِ الْمِنْبَرِ فَصَلَّى فَلَمَّا انْصَرَفَ لَمْ تَزَلْ تُمْطِرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا، فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ صَاحُوا إِلَيْهِ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ يَحْبِسْهَا عَنَّا، فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا فَكَشَطَتِ الْمَدِينَةُ فَجَعَلَتْ تَمْطُرُ حَوْلَهَا وَلَا تَمْطُرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةً، فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَإِنَّهَا لَفِي مِثْلِ الْإِكْلِيلِ".
مجھ سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے عبیداللہ عمری سے بیان کیا، ان سے ثابت نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ اتنے میں لوگوں نے کھڑے ہو کر غل مچایا، کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! بارش کے نام بوند بھی نہیں درخت سرخ ہو چکے (یعنی تمام پتے خشک ہو گئے) اور جانور تباہ ہو رہے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمیں سیراب کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللهم اسقنا» اے اللہ! ہمیں سیراب کر۔ دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کہا، قسم اللہ کی اس وقت آسمان پر بادل کہیں دور دور نظر نہیں آتا تھا لیکن دعا کے بعد اچانک ایک بادل آیا اور بارش شروع ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اتر ے اور نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو بارش ہو رہی تھی اور دوسرے جمعہ تک بارش برابر ہوتی رہی پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے جمعہ میں خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو لوگوں نے بتایا کہ مکانات منہدم ہو گئے اور راستے بند ہو گئے، اللہ سے دعا کیجئے کہ بارش بند کر دے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور دعا کی «االلهم حوالينا ولا علينا» اے اللہ! ہمارے اطراف میں اب بارش برسا، مدینہ میں اس کا سلسلہ بند کر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے مدینہ سے بادل چھٹ گئے اور بارش ہمارے ارد گرد ہونے لگی۔ اس شان سے کہ اب مدینہ میں ایک بوند بھی نہ پڑتی تھی میں نے مدینہ کو دیکھا ابر تاج کی طرح گردا گرد تھا اور مدینہ اس کے بیچ میں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 1021]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے تو کچھ لوگ اٹھ کر بول پڑے۔ انہوں نے فریاد کی: اللہ کے رسول! بارش نہیں ہو رہی، درخت پیلے ہو گئے اور مویشی مرنے لگے، اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہم پر بارش برسائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا» ”اے اللہ! ہمیں سیراب فرما۔“ اللہ کی قسم! ہمیں آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا دکھائی نہیں دیتا تھا کہ اچانک ابر نمودار ہوا اور برسنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور نماز پڑھی، پھر واپس گھر کو لوٹے، یہ بارش اگلے جمعے تک برستی رہی۔ دوسرے جمعہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو کچھ لوگ پھر بلند آواز سے بولے کہ مکانات گر گئے اور راستے بند ہو گئے، آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ اس بارش کو ہم سے روک دے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! ہمارے اردگرد بارش ہو، ہم پر نہ ہو۔“ اس کے بعد مدینے سے بادل چھٹ گئے۔ اس کے آس پاس بارش ہوتی رہی۔ مدینے میں بارش کا ایک قطرہ بھی نہیں برس رہا تھا۔ میں نے مدینہ منورہ کو دیکھا کہ تاج کی طرح اس کے اردگرد بادل تھے اور یہ درمیان میں تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 1021]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة