سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب فِي الدَّفْنِ بِاللَّيْلِ
باب: رات کے وقت میت کو دفن کرنا۔
حدیث نمبر: 3164
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَوْ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: رَأَى نَاسٌ نَارًا فِي الْمَقْبَرَةِ، فَأَتَوْهَا، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَبْرِ، وَإِذَا هُوَ يَقُولُ:" نَاوِلُونِي صَاحِبَكُمْ"، فَإِذَا هُوَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالذِّكْرِ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کچھ لوگوں نے قبرستان میں (رات میں) روشنی دیکھی تو وہاں گئے، دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے اندر کھڑے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں: ”تم اپنے ساتھی کو (یعنی نعش کو) مجھے تھماؤ“، تو دیکھا کہ (مرنے والا) وہ آدمی تھا جو بلند آواز سے ذکر الٰہی کیا کرتا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3164]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک بار) لوگوں نے قبرستان میں روشنی دیکھی، وہاں گئے تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں اترے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں: ”اپنا صاحب مجھے پکڑاؤ۔“ پھر معلوم ہوا کہ یہ وہ آدمی تھا جو اللہ کے ذکر (تلاوت قرآن) کے ساتھ اپنی آواز بلند کیا کرتا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3164]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2564) (ضعیف)» (اس کے راوی محمد بن مسلم طائفی حافظہ کے ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
محمد بن مسلم الطائفي حسن الحديث
محمد بن مسلم الطائفي حسن الحديث