سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. باب فِي الْمَيِّتِ يُدْخَلُ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ
باب: میت کو کیسے (کس طرف سے) قبر میں اتارا جائے؟
حدیث نمبر: 3211
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ:" أَوْصَى الْحَارِثُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ أَدْخَلَهُ الْقَبْرَ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيِ الْقَبْرِ، وَقَالَ: هَذَا مِنَ السُّنَّةِ".
ابواسحاق کہتے ہیں کہ حارث نے وصیت کی کہ ان کی نماز (نماز جنازہ) عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ پڑھائیں، تو انہوں نے ان کی نماز پڑھائی اور انہیں قبر میں پاؤں کی طرف سے داخل کیا اور کہا: یہ مسنون طریقہ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3211]
جناب ابو اسحاق (سبیعی) سے روایت ہے کہ حارث اعور نے وصیت کی کہ سیدنا عبداللہ بن یزید (عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ) ان کی نماز جنازہ پڑھائیں، چنانچہ انہوں نے جنازہ پڑھایا، پھر انہیں قبر کی پائینتی کی طرف سے قبر میں اتارا اور فرمایا: ”یہ سنت ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3211]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9675) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح