سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب الْحُكْمِ بَيْنَ أَهْلِ الذِّمَّةِ
باب: ذمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3590
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنِ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ سورة المائدة آية 42، فَنُسِخَتْ، قَالَ: فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ سورة المائدة آية 48".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ «فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» ”جب کافر آپ کے پاس آئیں تو آپ چاہیں تو فیصلہ کریں یا فیصلہ سے اعراض کریں“ (سورۃ المائدہ: ۴۲) منسوخ ہے، اور اب یہ ارشاد ہے «فاحكم بينهم بما أنزل الله» تو ان کے معاملات میں اللہ کی نازل کردہ وحی کے مطابق فیصلہ کیجئے“ (سورۃ المائدہ: ۴۸)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3590]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پہلے یہ آیت نازل ہوئی ﴿فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ﴾ [سورة المائدة: 42] ”اگر یہ (یہود) آپ کے پاس آئیں تو آپ ان میں فیصلہ فرمائیں یا اعراض کر لیں۔“ پھر اسے منسوخ کر دیا گیا اور فرمایا ﴿فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ﴾ [سورة المائدة: 48] ”آپ ان میں فیصلہ فرمائیں اس چیز کے ساتھ جو اللہ نے نازل کی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3590]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6263) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3591
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ سورة المائدة آية 42، وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ سورة المائدة آية 42، قَالَ: كَانَ بَنُو النَّضِيرِ إِذَا قَتَلُوا مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ أَدَّوْا نِصْفَ الدِّيَةِ، وَإِذَا قَتَلَ بَنُو قُرَيْظَةَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ أَدَّوْا إِلَيْهِمُ الدِّيَةَ كَامِلَةً، فَسَوَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب یہ آیت «فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» ”جب کافر آپ کے پاس آئیں تو آپ ان کا فیصلہ کریں یا نہ کریں“ (سورۃ المائدہ: ۴۲) «وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط» ”اور اگر تم ان کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو“ (سورۃ المائدہ: ۴۲) نازل ہوئی تو دستور یہ تھا کہ جب بنو نضیر کے لوگ قریظہ کے کسی شخص کو قتل کر دیتے تو وہ آدھی دیت دیتے، اور جب بنو قریظہ کے لوگ بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کر دیتے تو وہ پوری دیت دیتے، تو اس آیت کے نازل ہوتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت برابر کر دی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3591]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیت کریمہ ﴿فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ﴾ [سورة المائدة: 42] اور ﴿وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ﴾ [سورة المائدة: 42] نازل ہوئی، (انہوں نے سببِ نزول) بیان کیا کہ ”بنو نضیر، بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کر دیتے تو آدھی دیت دیا کرتے اور اگر بنو قریظہ، بنو نضیر کا کوئی آدمی قتل کر دیتے تو پوری دیت دیتے تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان میں برابر برابر کر دیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَقْضِيَةِ/حدیث: 3591]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/القسامة 5 (4737)، (تحفة الأشراف: 6074)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/363) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4737)
داود بن الحصين عن عكرمة : منكر
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128
إسناده ضعيف
نسائي (4737)
داود بن الحصين عن عكرمة : منكر
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 128