🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. باب رِوَايَةِ حَدِيثِ أَهْلِ الْكِتَابِ
باب: اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کی باتوں کی روایت کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3644
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ مُرَّ بِجَنَازَةٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ تَتَكَلَّمُ هَذِهِ الْجَنَازَةُ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُ أَعْلَمُ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: إِنَّهَا تَتَكَلَّمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا: آمَنَّا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ، فَإِنْ كَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوهُ، وَإِنْ كَانَ حَقًّا لَمْ تُكَذِّبُوهُ".
ابونملہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس ایک یہودی بھی تھا کہ اتنے میں ایک جنازہ لے جایا گیا تو یہودی نے کہا: اے محمد! کیا جنازہ بات کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے یہودی نے کہا: جنازہ بات کرتا ہے (مگر دنیا کے لوگ نہیں سنتے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بات تم سے اہل کتاب بیان کریں نہ تو تم ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب، بلکہ یوں کہو: ہم ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر، اگر وہ بات جھوٹ ہو گی تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی، اور اگر سچ ہو گی تو تم نے اس کی تکذیب نہیں کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: 3644]
جناب ابن ابی نملہ اپنے والد (ابونملہ عمار بن معاذ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے اور ایک یہودی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ گزرا۔ اس نے پوچھا: اے محمد! کیا یہ (میت) بولتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ یہودی نے کہا: یہ بولتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل کتاب جو تمہیں بیان کریں تم اس کی تصدیق کرو نہ تکذیب، بلکہ یوں کہو: «آمَنَّا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ» ہم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر ان کی بات غلط ہوئی تو تم نے (گویا) اس کی تصدیق نہیں کی اور اگر سچ ہوئی تو اسے جھٹلایا نہیں ہو گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: 3644]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ، أبوداود، (تحفة الأشراف: 12177)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/136) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ابن ابی نملہ لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نملة بن أبي نملة مستور كما في التحرير (7189) وثقه ابن حبان وحده (485/5)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 130

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3645
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ يَعْنِي ابْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَعَلَّمْتُ لَهُ كِتَابَ يَهُودَ، وَقَالَ:" إِنِّي وَاللَّهِ مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابِي، فَتَعَلَّمْتُهُ، فَلَمْ يَمُرَّ بِي إِلَّا نِصْفُ شَهْرٍ حَتَّى حَذَقْتُهُ، فَكُنْتُ أَكْتُبُ لَهُ إِذَا كَتَبَ، وَأَقْرَأُ لَهُ إِذَا كُتِبَ إِلَيْهِ".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے آپ کی خاطر یہودیوں کی تحریر سیکھ لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی میں اپنی خط و کتابت کے سلسلہ میں یہودیوں سے مامون نہیں ہوں تو میں اسے سیکھنے لگا، ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے اس میں مہارت حاصل کر لی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لکھوانا ہوتا تو میں ہی لکھتا اور جب کہیں سے کوئی مکتوب آتا تو اسے میں ہی پڑھتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: 3645]
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے یہودیوں کی تحریر سیکھ لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہودیوں سے جو میں لکھواتا ہوں اس پر مجھے اعتماد نہیں ہے۔ چنانچہ میں نے (ان کی زبان لکھنا پڑھنا) سیکھ لی، اور دو ہفتے نہ گزرے کہ میں اس میں خوب ماہر ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کچھ لکھنا ہوتا تو میں ہی لکھا کرتا، اور جب کوئی خط وغیرہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سناتا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: 3645]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الأحکام 40 (7195 تعلیقًا)، سنن الترمذی/الاستئذان 22 (2715)، (تحفة الأشراف: 3702)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/186) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (2715 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں