سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب رواية حديث أهل الكتاب
باب: اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کی باتوں کی روایت کا حکم۔
حدیث نمبر: 3645
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ يَعْنِي ابْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَعَلَّمْتُ لَهُ كِتَابَ يَهُودَ، وَقَالَ:" إِنِّي وَاللَّهِ مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابِي، فَتَعَلَّمْتُهُ، فَلَمْ يَمُرَّ بِي إِلَّا نِصْفُ شَهْرٍ حَتَّى حَذَقْتُهُ، فَكُنْتُ أَكْتُبُ لَهُ إِذَا كَتَبَ، وَأَقْرَأُ لَهُ إِذَا كُتِبَ إِلَيْهِ".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے آپ کی خاطر یہودیوں کی تحریر سیکھ لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی میں اپنی خط و کتابت کے سلسلہ میں یہودیوں سے مامون نہیں ہوں“ تو میں اسے سیکھنے لگا، ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے اس میں مہارت حاصل کر لی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لکھوانا ہوتا تو میں ہی لکھتا اور جب کہیں سے کوئی مکتوب آتا تو اسے میں ہی پڑھتا۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3645]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الأحکام 40 (7195 تعلیقًا)، سنن الترمذی/الاستئذان 22 (2715)، (تحفة الأشراف: 3702)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/186) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (2715 وسنده حسن)
أخرجه الترمذي (2715 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3645
| ما آمن يهود على كتابي فتعلمته فلم يمر بي إلا نصف شهر حتى حذقته فكنت أكتب له إذا كتب وأقرأ له إذا كتب إليه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3645 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3645
فوائد ومسائل:
1۔
غیر مسلموں کی کسی زبان اورتحریر کاعلم حاصل کرنا دینی اور دنیاوی غرض سے ناجائز نہیں ہے۔
مگر اسے اپنی ثقافت کاحصہ بنا لینا ناجائز ہے۔
اور جب یہ علم دینی اغراض سے ہو تو اس میں اجر بھی ہے۔
2۔
اور یہ زبانیں مسلمانوں کے ان افراد کو سکھائی جایئں جن کو ان کی ضرورت ہو۔
ورنہ اسے عام نصاب تعلیم بنا دینا اور لازمی قرار دے دینا دینی ودنیاوی لحاظ سے ظلم عظیم ہے۔
1۔
غیر مسلموں کی کسی زبان اورتحریر کاعلم حاصل کرنا دینی اور دنیاوی غرض سے ناجائز نہیں ہے۔
مگر اسے اپنی ثقافت کاحصہ بنا لینا ناجائز ہے۔
اور جب یہ علم دینی اغراض سے ہو تو اس میں اجر بھی ہے۔
2۔
اور یہ زبانیں مسلمانوں کے ان افراد کو سکھائی جایئں جن کو ان کی ضرورت ہو۔
ورنہ اسے عام نصاب تعلیم بنا دینا اور لازمی قرار دے دینا دینی ودنیاوی لحاظ سے ظلم عظیم ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3645]
خارجة بن زيد الأنصاري ← زيد بن ثابت الأنصاري