سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب فِي النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ وَالتَّنَفُّسِ فِيهِ
باب: پانی کے برتن میں پھونک مارنا اور سانس لینا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3728
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3728]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3728]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/ الأشربة 15 (1888)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 23 (3429، 3430)، (تحفة الأشراف: 6149)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/220، 309، 357)، سنن الدارمی/الأشربة 27 (2180) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4277)
أخرجه الترمذي (1818 وسنده صحيح) وله شواھد كثيرة
مشكوة المصابيح (4277)
أخرجه الترمذي (1818 وسنده صحيح) وله شواھد كثيرة
حدیث نمبر: 3729
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ مَنْ بَنِي سُلَيْمٍ، قَالَ:" جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَذَكَرَ حَيْسًا أَتَاهُ بِهِ، ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ، فَشَرِبَ فَنَاوَلَ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ، وَأَكَلَ تَمْرًا، فَجَعَلَ يُلْقِي النَّوَى عَلَى ظَهْرِ أُصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةُ وَالْوُسْطَى، فَلَمَّا قَامَ قَامَ أَبِي فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ لِي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ".
عبداللہ بن بسر جو بنی سلیم سے تعلق رکھتے ہیں کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس قیام کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا، پھر انہوں نے حیس ۱؎ کا ذکر کیا جسے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے پھر وہ آپ کے پاس پانی لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا پھر جو آپ کے داہنے تھا اسے دیدیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوریں کھائیں اور ان کی گٹھلیاں درمیانی اور شہادت والی انگلیوں کی پشت پر رکھ کر پھینکنے لگے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میرے والد بھی کھڑے ہوئے اور انہوں نے آپ کی سواری کی لگام پکڑ کر عرض کیا: میرے لیے اللہ سے دعا کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم» ”اے اللہ جو روزی تو نے انہیں دی ہے اس میں برکت عطا فرما، انہیں بخش دے، اور ان پر رحم فرما“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3729]
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ جو قبیلہ بنی سلیم سے ہیں ان کا بیان ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے ہاں تشریف لائے اور کچھ دیر ٹھہرے۔ میرے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا پیش کیا۔ انہوں نے ذکر کیا کہ وہ کھانا حیس (ایک خاص قسم کا کھانا جو کھجور، پنیر، گھی اور آٹے وغیرہ کا مرکب ہوتا ہے) تھا جو لایا گیا۔ پھر وہ مشروب لائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا، پھر اپنے دائیں طرف والے کو دے دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوریں کھائیں اور گٹھلیاں اپنی انگشت شہادت اور ساتھ والی انگلی کی پشت پر رکھتے گئے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھے تو میرے والد نے اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام تھام لی اور عرض کیا کہ میرے لیے اللہ سے دعا فرمائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ» ”اے اللہ! جو تو نے انہیں عنایت فرمایا ہے اس میں انہیں برکت دے، ان کی مغفرت فرما اور ان پر رحمت نازل کر۔““ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 22 (2042)، سنن الترمذی/الدعوات 118 (3576)، (تحفة الأشراف: 5205)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/188، 190)، سنن الدارمی/الأطعمة 2 (2065) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک کھانے کا نام ہے جو کھجور وغیرہ سے تیار کیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2042)