سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب فِي غَسْلِ الْيَدِ قَبْلَ الطَّعَامِ
باب: کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3761
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ: أَنَّ بَرَكَةَ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَالْوُضُوءُ بَعْدَهُ"، وَكَانَ سُفْيَانُ يَكْرَهُ الْوُضُوءَ قَبْلَ الطَّعَامِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانے کی برکت کھانے سے پہلے وضو کرنا ہے۔ میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”کھانے کی برکت کھانے سے پہلے وضو کرنا ہے اور کھانے کے بعد بھی“۔ سفیان کھانے سے پہلے وضو کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ضعیف ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3761]
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانے سے پہلے وضو کر لینا باعث برکت ہوتا ہے۔ میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھانے کی برکت وضو میں ہے کہ کھانے سے پہلے کیا جائے اور بعد میں بھی۔“”اور جناب سفیان کھانے سے پہلے وضو کرنا مکروہ سمجھتے تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”یہ روایت ضعیف ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3761]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأطعمة 39 (1846)، (تحفة الأشراف: 4489)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/441) (ضعیف)» (اس کے راوی قیس بن ربیع ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1846)
قيس بن الربيع ضعيف ضعفه الجمهور من جھة حفظه وفي التحرير :’’ ضعيف يعتبر به في الشواهد والمتابعات ‘‘ (5573) وقال أحمد : ’’ ھو منكر،ما حدث به إلا قيس بن الربيع‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 133
إسناده ضعيف
ترمذي (1846)
قيس بن الربيع ضعيف ضعفه الجمهور من جھة حفظه وفي التحرير :’’ ضعيف يعتبر به في الشواهد والمتابعات ‘‘ (5573) وقال أحمد : ’’ ھو منكر،ما حدث به إلا قيس بن الربيع‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 133