🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

34. باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ
باب: گھریلو گدھے کا گوشت کھانا حرام ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3808
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَسَنٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، عَنْ جَابِرِ بَنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ، عَنْ أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ الْحُمُرِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ الْخَيْلِ"، قَالَ عَمْرٌو: فَأَخْبَرْتُ هَذَا الْخَبَرَ أَبَا الشَّعْثَاءِ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ الْحَكَمُ الْغِفَارِيُّ فِينَا يَقُولُ هَذَا، وَأَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ يُرِيدُ ابْنَ عَبَّاسٍ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھے کے گوشت کھانے سے منع فرمایا، اور ہمیں گھوڑے کا گوشت کھانے کا حکم دیا۔ عمرو کہتے ہیں: ابوالشعثاء کو میں نے اس حدیث سے باخبر کیا تو انہوں نے کہا: حکم غفاری بھی ہم سے یہی کہتے تھے اور اس «بحر» (عالم) نے اس حدیث کا انکار کیا ہے ان کی مراد ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تھی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3808]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے روز ہمیں ”گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ ہم گھوڑوں کا گوشت کھائیں۔“ عمرو نے کہا: ”میں نے یہ روایت ابولشعثاء کو بتائی تو انہوں نے کہا کہ حکم (حکم بن عمرو غفاری) غفاری (بصرہ میں) ہمارے پاس تھے وہ بھی یہی کہتے تھے۔ مگر اس «الْبَحْرُ» ”بحر“ نے اس کا انکار کیا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3808]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الصید 28 (5529)، انظر حدیث رقم: 3788، (تحفة الأشراف: 3422)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/413) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس سند میں رجل سے مراد محمد بن علی باقر ہیں)
وضاحت: ۱؎: ابن عباس رضی اللہ عنہما گھریلو گدھا کے کھانے کو جائز مانتے تھے، ہو سکتا ہے کہ انہیں حرمت والی حدیث نہ پہنچی ہو، آیت کریمہ: «قل لا أجد فيما أوحي إلي محرما» سے ان کا اس پر استدلال اس لئے صحیح نہیں ہے کہ یہ آیت مکی ہے، اور حرمت مدینہ میں ہوئی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قول عمرو فأخبرت . . الخ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديثين السابقين (3480، 3807)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3809
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ غَالِبِ بْنِ أَبْجَرَ، قَالَ:" أَصَابَتْنَا سَنَةٌ فَلَمْ يَكُنْ فِي مَالِي شَيْءٌ أُطْعِمُ أَهْلِي إِلَّا شَيْءٌ مِنْ حُمُرٍ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنَا السَّنَةُ وَلَمْ يَكُنْ فِي مَالِي مَا أُطْعِمُ أَهْلِي إِلَّا سِمَانُ الْحُمُرِ، وَإِنَّكَ حَرَّمْتَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَقَالَ: أَطْعِمْ أَهْلَكَ مِنْ سَمِينِ حُمُرِكَ فَإِنَّمَا حَرَّمْتُهَا مِنْ أَجْلِ جَوَّالِ الْقَرْيَةِ يَعْنِي الْجَلَّالَةَ"، قَالَ 12 أَبُو دَاوُدَ 12: عَبْدُ الرَّحْمَنِ هَذَا هُوَ ابْنُ مَعْقِلٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ نَاسٍ مِنْ مُزَيْنَةَ: أَنَّ سَيِّدَ مُزَيْنَةَ أَبْجَرَ، أَوِ ابْنَ أَبْجَرَ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
غالب بن ابجر کہتے ہیں ہمیں قحط سالی لاحق ہوئی اور ہمارے پاس گدھوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا جسے ہم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام کر چکے تھے، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کو قحط سالی نے آ پکڑا ہے اور ہمارے پاس سوائے موٹے گدھوں کے کوئی مال نہیں جسے ہم اپنے اہل و عیال کو کھلا سکیں اور آپ گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے اہل و عیال کو اپنے موٹے گدھے کھلاؤ میں نے انہیں گاؤں گاؤں گھومنے کی وجہ سے حرام کیا ہے“ یعنی نجاست خور گدھوں کو حرام کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن سے مراد ابن معقل ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو شعبہ نے عبیدابوالحسن سے، عبید نے عبدالرحمٰن بن معقل سے عبدالرحمٰن بن معقل نے عبدالرحمٰن بن بشر سے انہوں نے مزینہ کے چند لوگوں سے روایت کیا کہ مزینہ کے سردار ابجر یا ابن ابجر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3809]
سیدنا غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم قحط سے دوچار ہو گئے۔ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جو میں اپنے گھر والوں کو کھلا سکتا، صرف چند گدھے ہی تھے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کا گوشت حرام فرما دیا تھا۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہم قحط میں مبتلا ہیں اور میرے پاس کوئی مال نہیں جو میں اپنے گھر والوں کو کھلا سکوں سوائے موٹے موٹے گدھوں کے اور آپ نے پالتو گدھوں کا گوشت حرام قرار دیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کو اپنے موٹے گدھوں میں سے کھلا دو، میں نے انہیں اس لیے حرام کیا ہے کہ یہ بستی کی گندگی کھاتے ہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سند میں مذکور عبدالرحمٰن یہ ابن معقل ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث کو شعبہ نے عبید ابوالحسن سے روایت کیا ہے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن معقل سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن بشر سے، انہوں نے مزینہ کے کچھ لوگوں سے، (انہوں نے بیان کیا) کہ قبیلہ مزینہ کے سردار ابجر یا ابن ابجر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3809]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11018) (ضعیف الإسناد/ مضطرب)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں سخت اضطراب ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد مضطرب
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ناس من مزينة : مجاهيل،كلھم
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3810
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدٍ، عَنْ ابْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ أَحَدُهُمَا عَنْ الْآخَرِ أَحَدُهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُوَيْمٍ، وَالْآخَرُ غَالِبُ بْنُ الْأَبْجَرِ، قَالَ مِسْعَرٌ: أَرَى غَالِبًا الَّذِي أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ابن معقل مزینہ کے دو آدمیوں سے روایت کرتے ہیں اور ان میں سے ایک شخص دوسرے سے روایت کرتا ہے ایک کا نام عبداللہ بن عمرو بن عویم اور دوسرے کا نام غالب بن أبجر ہے۔ مسعر کہتے ہیں: میرا خیال ہے غالب ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بات (قحط والے معاملے) کو لے کر آئے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3810]
ابن معقل قبیلہ مزینہ کے دو آدمیوں سے روایت کرتے ہیں، ان میں سے ایک دوسرے سے روایت کرتا ہے، ایک عبداللہ بن عمرو بن عویم رضی اللہ عنہ ہے اور دوسرا غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ۔ مسعر رحمہ اللہ نے کہا: ”میرا خیال ہے کہ یہ غالب ہی تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا“ اور یہ روایت بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3810]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11018) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس سند میں سخت اضطراب ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظرالحديث السابق (3809)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3811
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ،" عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَعَنِ الْجَلَّالَةِ عَنْ رُكُوبِهَا وَأَكْلِ لَحْمِهَا".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت سے اور نجاست خور جانور کی سواری کرنے اور اس کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3811]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے روز ”پالتو گدھوں کے گوشت، گندگی (نجاست) کھانے والے جانوروں کی سواری اور ان کا گوشت کھانے“ سے منع فرمایا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 3811]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الضحایا 42 (4452)، (تحفة الأشراف: 8762)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/219) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (4452 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں