سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب في أكل لحوم الحمر الأهلية
باب: گھریلو گدھے کا گوشت کھانا حرام ہے۔
حدیث نمبر: 3810
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدٍ، عَنْ ابْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ أَحَدُهُمَا عَنْ الْآخَرِ أَحَدُهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُوَيْمٍ، وَالْآخَرُ غَالِبُ بْنُ الْأَبْجَرِ، قَالَ مِسْعَرٌ: أَرَى غَالِبًا الَّذِي أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ابن معقل مزینہ کے دو آدمیوں سے روایت کرتے ہیں اور ان میں سے ایک شخص دوسرے سے روایت کرتا ہے ایک کا نام عبداللہ بن عمرو بن عویم اور دوسرے کا نام غالب بن أبجر ہے۔ مسعر کہتے ہیں: میرا خیال ہے غالب ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بات (قحط والے معاملے) کو لے کر آئے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3810]
ابن معقل قبیلہ مزینہ کے دو آدمیوں سے روایت کرتے ہیں، ان میں سے ایک دوسرے سے روایت کرتا ہے، ایک عبداللہ بن عمرو بن عویم رضی اللہ عنہ ہے اور دوسرا غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ۔ مسعر رحمہ اللہ نے کہا: ”میرا خیال ہے کہ یہ غالب ہی تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا“ اور یہ روایت بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3810]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11018) (ضعیف الإسناد)» (اس سند میں سخت اضطراب ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظرالحديث السابق (3809)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135
إسناده ضعيف
انظرالحديث السابق (3809)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 3810 in Urdu
عبد الله بن عمرو بن لويم ← غالب بن أبجر المزني