سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب فِي الْعِلاَقِ
باب: انگلی سے بچوں کے حلق دبانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3877
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ، وَحَامِدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ:" دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ: عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ، عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ، يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي بِالْعُودِ الْقُسْطَ.
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بچے کو لے کر آئی، کوا بڑھ جانے کی وجہ سے میں نے اس کے حلق کو دبا دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم اپنے بچوں کے حلق کس لیے دباتی ہو؟ تم اس عود ہندی کو لازماً استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے جس میں ذات الجنب (نمونیہ) بھی ہے، کوا بڑھنے پر ناک سے دوا داخل کی جائے، اور ذات الجنب میں «لدود» ۱؎ بنا کر پلایا جائے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «عود» سے مراد «قسط» ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3877]
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں اپنے بیٹے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ (چونکہ اس کے حلق میں تکلیف تھی تو) میں نے اس کے لٹکے ہوئے گلے انگلی سے اوپر کیے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بچوں کے گلے لٹکنے کا علاج انگلی سے کیوں کرتی ہو؟ «عُودِ هِنْدِي» ”عودِ ہندی“ اختیار کر لو، اس میں سات بیماریوں کی شفاء ہے۔ ان میں سے ایک «ذَاتِ الْجَنْبِ» ”ذات الجنب“ (پہلو کا درد بھی) ہے (جس میں یہ مفید ہے) حلق کی تکلیف میں اسے ناک میں ٹپکایا جاتا ہے اور پہلو کے درد میں پانی کے ساتھ کھلایا جاتا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عود سے مراد «قُسْط» ”قسط“ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3877]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 21 (5713)، صحیح مسلم/السلام 28 (2214)، سنن ابن ماجہ/الطب 17 (3462)، (تحفة الأشراف: 18343) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «لدود» اس دواء کو کہتے ہیں جو مریض کے منہ میں ڈالی جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5713) صحيح مسلم (2214)