🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. باب فِي تَعْلِيقِ التَّمَائِمِ
باب: تعویذ لٹکانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3883
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ"، قَالَتْ: قُلْتُ: لِمَ تَقُولُ هَذَا، وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَتْ عَيْنِي تَقْذِفُ، وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ يَرْقِينِي، فَإِذَا رَقَانِي سَكَنَتْ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّمَا ذَاكَ عَمَلُ الشَّيْطَانِ كَانَ يَنْخُسُهَا بِيَدِهِ فَإِذَا رَقَاهَا كَفَّ عَنْهَا إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكِ أَنْ تَقُولِي كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: جھاڑ پھونک (منتر) ۱؎ گنڈا (تعویذ) اور تولہ ۲؎ شرک ہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: آپ ایسا کیوں کہتے ہیں؟ قسم اللہ کی میری آنکھ درد کی شدت سے نکلی آتی تھی اور میں فلاں یہودی کے پاس دم کرانے آتی تھی تو جب وہ دم کر دیتا تھا تو میرا درد بند ہو جاتا تھا، عبداللہ رضی اللہ عنہ بولے: یہ کام تو شیطان ہی کا تھا وہ اپنے ہاتھ سے آنکھ چھوتا تھا تو جب وہ دم کر دیتا تھا تو وہ اس سے رک جاتا تھا، تیرے لیے تو بس ویسا ہی کہنا کافی تھا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «ذهب الباس رب الناس اشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» لوگوں کے رب! بیماری کو دور فرما، شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، ایسی شفاء جو کسی بیماری کو نہ رہنے دے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3883]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دم جھاڑ، گنڈے، منکے اور جادو کی چیزیں یا تحریریں شرک ہیں۔ ان کی اہلیہ نے کہا: آپ یہ کیوں کر کہتے ہیں؟ اللہ کی قسم! میری آنکھ درد کی وجہ سے گویا نکلی جاتی تھی، تو میں فلاں یہودی کے پاس جاتی اور وہ مجھے دم کرتا تھا۔ جب وہ دم کرتا تو میرا درد رک جاتا تھا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ شیطان کی کارستانی ہوتی تھی۔ وہ تیری آنکھ میں اپنی انگلی مارتا تھا، تو جب وہ (یہودی) دم کرتا تو (شیطان) باز آ جاتا تھا۔ حالانکہ تجھے یہی کچھ کہنا کافی تھا، جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» اے لوگوں کے رب! دکھ دور کر دے، شفاء عنایت فرما، تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیری شفاء کے سوا کہیں کوئی شفاء نہیں، ایسی شفاء عنایت فرما جو کوئی دکھ باقی نہ رہنے دے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3883]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الطب 39 (3530)، (تحفة الأشراف: 9643)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/381) (ضعیف) (الصحیحة: 2972، وتراجع الألباني: 142)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جھاڑ پھونک اور منتر سے مراد وہ منتر ہے جو عربی میں نہ ہو، اور جس کا معنی و مفہوم بھی واضح نہ ہو، لیکن اگر اس کا مفہوم سمجھ میں آئے، اور وہ اللہ کے ذکر پر مشتمل ہو تو مستحب ہے، جو لوگ عربی زبان نہ جانتے ہوں ان کو دعاؤں کے سلسلے میں بڑی احتیاط کرنی چاہئے، اور اس سلسلے میں اسلامی آداب کا لحاظ ضروری ہے۔
۲؎: ایک قسم کا جادو ہے جسے دھاگہ یا کاغذ میں عورت مرد کے درمیان محبت پیدا کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
ابن ماجه (3530)
الأعمش عنعن
وللحديث شواهد ضعيفة
و للحديث طريق صحيح مختصر في المستدرك (217/4 ح 7505،اتحاف المھرة 10/ 453) عن قيس بن السكن الأسدي قال : ’’ دخل عبد اللّٰه بن مسعود رضي اللّٰه عنه علي امرأة فرأي عليھا حرزًا من الحمرة فقطعه قطعًا عنيفًا ثم قال : إن آل عبد اللّٰه عن الشرك أغنياء،و قال : كان مما حفظنا عن النبي ﷺ أن الرقي والتمائم والتولية من الشرك‘‘ و صححه الحاكم ووافقه الذهبي وسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 139

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3884
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھاڑ پھونک، نظر بد یا زہریلے ڈنک کے علاوہ کسی اور چیز کے لیے نہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3884]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دم جھاڑ صرف نظرِ بد میں ہے یا زہریلے ڈنک میں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 3884]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطب 15 (2057)، (تحفة الأشراف: 10830)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/436، 438، 446)، صحیح البخاری/ الطب 17 (5705)، موقوفًا (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4557)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں