🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. باب فِي النُّجُومِ
باب: علم نجوم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3905
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ، اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ اخذ کیا تو اس نے اتنا ہی جادو اخذ کیا، وہ جتنا اضافہ کرے گا اتنا ہی اضافہ ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3905]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نجوم کا کوئی علم سیکھا اس نے جادو کا ایک حصہ سیکھا، چنانچہ جو اس میں اپنا حصہ بڑھانا چاہتا ہے بڑھا لے۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3905]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الأدب 28 (3726)، (تحفة الأشراف: 6559)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/227، 311) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4598)
أخرجه ابن ماجه (3726 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3906
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ:" صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں ہمیں نماز فجر بارش کے بعد پڑھائی جو رات میں ہوئی تھی تو جب آپ فارغ ہو گئے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے کہا: میرے بندوں میں سے کچھ نے آج مومن ہو کر صبح کی، اور کچھ نے کافر ہو کر، جس نے یہ کہا کہ بارش اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوئی وہ میرے اوپر ایمان رکھنے والا ہوا اور ستاروں کا منکر ہوا، اور جس نے کہا کہ ہم فلاں اور فلاں نچھتر کے سبب برسائے گئے تو وہ میرا منکر ہوا اور ستاروں پر یقین کرنے والا ہوا۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3906]
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام حدیبیہ میں ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جب کہ رات کو بارش ہو چکی تھی۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی خوب جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میرے بندوں میں سے کچھ مجھ پر ایمان لائے ہیں اور کچھ کافر ہو گئے ہیں۔ جنہوں نے یہ کہا کہ ہمیں اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ملی ہے، تو وہ مجھ پر ایمان لائے اور ستارے کے کافر ہوئے ہیں۔ اور جنہوں نے کہا کہ ہمیں فلاں فلاں ستارے سے بارش ملی ہے تو وہ مجھ سے کافر ہوئے اور ستارے پر ایمان لائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3906]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 156 (846)، الاستسقاء 28 (1038)، المغازي 35 (4147)، التوحید 35 (7503)، صحیح مسلم/الإیمان 32 (125)، سنن النسائی/الاستسقاء 16 (1526)، عمل الیوم واللیلة 267 (924)، (تحفة الأشراف: 3757)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستسقاء 3 (4)، مسند احمد (4/115، 116، 117) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (846) صحيح مسلم (71)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں