سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب فِي الطِّيَرَةِ
باب: بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3920
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ لَا يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ، وَكَانَ إِذَا بَعَثَ عَامِلًا سَأَلَ عَنِ اسْمِهِ، فَإِذَا أَعْجَبَهُ اسْمُهُ فَرِحَ بِهِ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهُ رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِذَا دَخَلَ قَرْيَةً سَأَلَ عَنِ اسْمِهَا، فَإِنْ أَعْجَبَهُ اسْمُهَا فَرِحَ وَرُئِيَ بِشْرُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَإِنْ كَرِهَ اسْمَهَا رُئِيَ كَرَاهِيَةُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے فال بد (بدشگونی) نہیں لیتے تھے اور جب آپ کسی عامل کو بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا نام پسند آتا تو اس سے خوش ہوتے اور خوشی آپ کے چہرے پر نظر آتی اور اگر وہ پسند نہ آتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر دکھائی پڑتی، اور جب کسی بستی میں داخل ہوتے تو اس کا نام پوچھتے اگر وہ نام اچھا لگتا تو اس سے خوش ہوتے اور یہ خوشی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر دکھائی پڑتی اور اگر وہ ناپسند ہوتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر دکھائی پڑتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3920]
جناب عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کسی شے سے بدشگونی نہیں لیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو عامل بنا کر بھیجتے تو اس کا نام دریافت فرماتے۔ سو اگر اس کا نام پسند آ جاتا تو خوش ہوتے اور خوشی کا اثر چہرے پر ظاہر ہوتا اور اگر نام پسند نہ آتا تو اس کا اثر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ظاہر ہوتا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی (نئی) بستی میں داخل ہوتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر اس کا نام پسند آتا تو خوش ہوتے اور خوشی کا اثر چہرے پر دکھائی دیتا اور اگر نام پسند نہ آتا تو اس کی کراہت کا اثر (بھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ظاہر ہوتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3920]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 1993)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/347) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
ولبعض الحديث شاهد عند الضياء في المختارة بلفظ ’’ كان يتفأل ولا يتطير ويعجبه الإسم الحسن ‘‘ (144/12 ح169) وھو حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
ولبعض الحديث شاهد عند الضياء في المختارة بلفظ ’’ كان يتفأل ولا يتطير ويعجبه الإسم الحسن ‘‘ (144/12 ح169) وھو حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
حدیث نمبر: 3921
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، أَنَّ الْحَضْرَمِيَّ بْنَ لَاحِقٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" لَا هَامَةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَإِنْ تَكُنْ الطِّيَرَةُ فِي شَيْءٍ، فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ".
سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”مردے کی روح جانور کی شکل میں نہیں نکلتی، اور نہ کسی کی بیماری کسی کو لگتی ہے، اور نہ کسی چیز میں نحوست ہے، اور اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3921]
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”کسی مردے سے کوئی الو نہیں نکلتا، نہ کوئی مرض متعدی ہوتا ہے اور نہ بدشگونی ہے، اگر ہو بھی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہو سکتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3921]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: تفردبہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3861)، وقد أخرجہ: حم (1/180، 186) (صحیح)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4586)
مشكوة المصابيح (4586)
حدیث نمبر: 3922
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ، أَخْبَرَكَ ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: سُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الشُّؤْمِ فِي الْفَرَسِ وَالدَّارِ، قَالَ: كَمْ مِنْ دَارٍ سَكَنَهَا نَاسٌ، فَهَلَكُوا ثُمَّ سَكَنَهَا آخَرُونَ، فَهَلَكُوا؟ فَهَذَا تَفْسِيرُهُ فِيمَا نَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: حَصِيرٌ فِي الْبَيْتِ خَيْرٌ مِنَ امْرَأَةٍ لَا تَلِدُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست گھر، عورت اور گھوڑے میں ہے ۱؎“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ ابن قاسم نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے گھوڑے اور گھر کی نحوست کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: بہت سے گھر ایسے ہیں جس میں لوگ رہے تو وہ مر گئے پھر دوسرے لوگ رہنے لگے تو وہ بھی مر گئے، جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہی اس کی تفسیر ہے، واللہ اعلم۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گھر کی ایک چٹائی بانجھ عورت سے اچھی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3922]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدشگونی گھر، بیوی اور گھوڑے میں ہوتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3922]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجھاد 47 (2858)، النکاح 17 (5093)، الطب 43 (5753)، 54 (5772)، صحیح مسلم/السلام 34 (2225)، سنن الترمذی/الأدب 58 (2824)، سنن النسائی/الخیل 4 (3599)، سنن ابن ماجہ/النکاح 55 (1995)، (تحفة الأشراف: 6864، 18276، 6699)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان 8 (22)، مسند احمد (2/8، 36، 115، 126) (صحیح)» (اس حدیث میں «الشؤم» کا لفظ آیا ہے، اور بعض روایتوں میں «إنما الشؤم» ہے جبکہ صحیحین وغیرہ میں ابن عمر سے «إن کان الشؤم» ثابت ہے، جس کے شواہد سعد بن أبی وقاص (کما تقدم: 3921)، سہل بن سعد (صحیح البخاری/5095)، وجابر (صحیح مسلم/2227) کی احادیث میں ہیں، اس لئے بعض اہل علم نے پہلے لفظ کو شاذ قرار دیا ہے، (ملاحظہ ہو: الصحیحة: 799، 789، 1857)۔
وضاحت: ۱؎: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی یہی روایت صحیح مسلم میں کئی سندوں سے اس طرح ہے: ”اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو ان تین چیزوں میں ہوتی“ اور یہی مطلب اس عام روایت کا بھی ہے، اس کی وضاحت سعد بن مالک کی پچھلی روایت سے بھی ہو رہی ہے، اور وہ جو دیگر روایات میں ہے، جیسے حدیث نمبر (۳۹۲۴) تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ ظاہر کو حقیقت سمجھ بیٹھیں اور ان کا عقیدہ خراب ہو جائے اسی لئے اس گھر کو چھوڑ دینے کا حکم دیا جیسے کوڑھی سے بھاگنے کا حکم دیا، حالانکہ آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم خود فرمایا ہے کہ: ”چھوت کی کوئی حقیقت نہیں“۔
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ إن كان الشؤم
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5093) صحيح مسلم (2225)
حدیث نمبر: 3923
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَحِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ فَرْوَةَ بْنَ مُسَيْكٍ، قَالَ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضٌ عِنْدَنَا يُقَالُ لَهَا أَرْضُ أَبْيَنَ هِيَ أَرْضُ رِيفِنَا وَمِيرَتِنَا وَإِنَّهَا وَبِئَةٌ، أَوْ قَالَ: وَبَاؤُهَا شَدِيدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهَا عَنْكَ فَإِنَّ مِنَ الْقَرَفِ التَّلَفَ".
فروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ایک زمین ہے جسے ابین کہا جاتا ہے یہی ہمارا کھیت ہے جہاں سے ہمیں غلہ ملتا ہے لیکن یہ وبا والی زمین ہے یا کہا کہ اس کی وبا سخت ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس زمین کو اپنے سے علیحدہ کر دے کیونکہ اس کے ساتھ وبا لگی رہنے سے ہلاکت ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3923]
جناب فروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہمارے ہاں ایک زمین ہے جسے «أَبْيَنُ» کہا جاتا ہے۔ اس میں ہمارے کھیت ہیں اور یہ ہمارے غلہ اگانے کی جگہ ہے، مگر وبا والی ہے، یا کہا کہ بڑی سخت وبا والی جگہ ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو۔ وبا والی جگہ میں رہنے سے آدمی ہلاک ہو جاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3923]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11024)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/451) (ضعیف الإسناد)» (فروة کے شاگرد مبہم ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يحيي بن عبد اللّٰه بن بحير : مستور (تق : 7579) وشيخه مجهول لم يسم
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
إسناده ضعيف
يحيي بن عبد اللّٰه بن بحير : مستور (تق : 7579) وشيخه مجهول لم يسم
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
حدیث نمبر: 3924
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا فِي دَارٍ كَثِيرٌ فِيهَا عَدَدُنَا، وَكَثِيرٌ فِيهَا أَمْوَالُنَا، فَتَحَوَّلْنَا إِلَى دَارٍ أُخْرَى فَقَلَّ فِيهَا عَدَدُنَا وَقَلَّتْ فِيهَا أَمْوَالُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَرُوهَا ذَمِيمَةً".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم ایک گھر میں تھے تو اس میں ہمارے لوگوں کی تعداد بھی زیادہ تھی اور ہمارے پاس مال بھی زیادہ رہتا تھا پھر ہم ایک دوسرے گھر میں آ گئے تو اس میں ہماری تعداد بھی کم ہو گئی اور ہمارا مال بھی گھٹ گیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، مذموم حالت میں ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3924]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم ایک گھر میں تھے، اس میں ہم بہت سے افراد تھے اور وہاں ہمارے اموال بھی بہت تھے۔ پھر ہم ایک دوسرے گھر میں منتقل ہوئے تو ہمارے افراد کم ہو گئے اور اموال میں بھی قلت ہو گئی۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، یہ برا گھر ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3924]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 193) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اس گھر کو چھوڑ دینے کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے دیا کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ وہ گھر ہی کو مؤثر سمجھنے لگ جائیں اور شرک میں پڑ جائیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عكرمة بن عمار مدلس وعنعن
بل صرح بالسماع عند البزار (البحر الزخار 79/13 ح6427)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
إسناده ضعيف
عكرمة بن عمار مدلس وعنعن
بل صرح بالسماع عند البزار (البحر الزخار 79/13 ح6427)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
حدیث نمبر: 3925
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ فَوَضَعَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ، وَقَالَ: كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ پیالہ میں رکھ لیا اور فرمایا: ”اللہ پر بھروسہ اور اعتماد کر کے کھاؤ“۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3925]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جذامی کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ کھانے کے پیالے میں ڈال دیا اور فرمایا: «كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ» ”اللہ پر اعتماد اور توکل کرتے ہوئے کھاؤ۔“ (ہم بھی تمہارے ساتھ کھاتے ہیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3925]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأطعمة 19 (1817)، سنن ابن ماجہ/ الطب 44 (3542)، (تحفة الأشراف: 3010) (ضعیف)» (اس کے راوی مفضّل بن فضالة بصری ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1817) ابن ماجه (3542)
مفضل بن فضالة : ضعيف (تق : 6857)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140
إسناده ضعيف
ترمذي (1817) ابن ماجه (3542)
مفضل بن فضالة : ضعيف (تق : 6857)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 140