🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب الدُّخُولِ فِي الْحَمَّامِ
باب: حمام میں جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4009
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي عُذْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ دُخُولِ الْحَمَّامَاتِ ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ أَنْ يَدْخُلُوهَا فِي الْمَيَازِرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمامات (غسل خانوں) میں داخل ہونے سے منع فرمایا، پھر آپ نے مردوں کو تہبند باندھ کر جانے کی رخصت دی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحَمَّامِ/حدیث: 4009]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمامات (اجتماعی اور عوامی غسل خانوں) میں جانے سے منع فرمایا، مگر بعد میں مردوں کو اجازت دے دی کہ چادر باندھ کر جا سکتے ہیں (دوسروں کے سامنے عریاں نہ ہوں)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحَمَّامِ/حدیث: 4009]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأدب 43 (2802)، سنن ابن ماجہ/الأدب 38 (3749)، (تحفة الأشراف: 17798)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/132، 139، 179) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ابوعذرہ مجہول راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4474)
أخرجه الترمذي (2802 وسنده حسن) وابن ماجه (3749 وسنده حسن) وقال الترمذي: ’’وإسناده ليس بذك القائم‘‘ ، و أبو عذرة: حسن الحديث، و السند قائم و الحمد للّٰه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4010
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ: دَخَلَ نِسْوَةٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: مِمَّنْ أَنْتُنَّ؟ قُلْنَ: مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، قَالَتْ: لَعَلَّكُنَّ مِنَ الْكُورَةِ الَّتِي تَدْخُلُ نِسَاؤُهَا الْحَمَّامَاتِ؟ قُلْنَ: نَعَمْ، قَالَتْ: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنَ امْرَأَةٍ تَخْلَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِهَا إِلَّا هَتَكَتْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حَدِيثُ جَرِيرٍ وَهُوَ أَتَمُّ، وَلَمْ يَذْكُرْ جَرِيرٌ أَبَا الْمَلِيحِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوالملیح کہتے ہیں اہل شام کی کچھ عورتیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو انہوں نے ان سے پوچھا: تم کہاں کی ہو؟ ان سب نے کہا: ہم اہل شام سے تعلق رکھتی ہیں، یہ سن کر وہ بولیں: شاید تم اس علاقہ کی ہو جہاں کی عورتیں بھی غسل خانوں میں داخل ہوتی ہیں، ان سب نے کہا: ہاں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو بھی عورت اپنے کپڑے اپنے گھر کے علاوہ کہیں اور اتارتی ہے تو وہ اپنے پردے کو جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے پھاڑ دیتی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ جریر کی روایت ہے جو زیادہ کامل ہے اور جریر نے ابوالملیح کا ذکر نہیں کیا ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحَمَّامِ/حدیث: 4010]
جناب ابوملیح (عامر بن اسامہ) سے روایت ہے کہ شام کی کچھ عورتیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں۔ انہوں نے پوچھا: تم کن لوگوں میں سے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم اہل شام میں سے ہیں۔ انہوں نے کہا: شاید تم اس علاقے کی ہو جہاں کی عورتیں حمامات میں جاتی ہیں؟ عورتوں نے کہا: ہاں! تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آگاہ رہو! بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جو کوئی عورت اپنے گھر کے علاوہ کہیں اور اپنے کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اور اللہ تعالیٰ کے مابین جو (عزت و کرامت کا) پردہ ہے، اس کو پھاڑ دیتی ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جریر کی روایت ہے اور زیادہ کامل ہے۔ مگر جریر نے ابوملیح «قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کا ذکر نہیں کیا۔ (مرسل بیان کیا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحَمَّامِ/حدیث: 4010]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏وحدیث محمد بن قدامة قد تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17804،16090)، وقد أخرجہ: حدیث محمد بن مثنی: سنن الترمذی/الأدب 43 (2803)، سنن ابن ماجہ/الأدب 38 (3750)، مسند احمد (6/41، 199)، سنن الدارمی/الاستئذان 23 (2693) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4475)
أخرجه الترمذي (2803 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (3750 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4011
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّهَا سَتُفْتَحُ لَكُمْ أَرْضُ الْعَجَمِ وَسَتَجِدُونَ فِيهَا بُيُوتًا يُقَالُ لَهَا الْحَمَّامَاتُ فَلَا يَدْخُلَنَّهَا الرِّجَالُ إِلَّا بِالْأُزُرِ وَامْنَعُوهَا النِّسَاءَ إِلَّا مَرِيضَةً أَوْ نُفَسَاءَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب عجم کی سر زمین تمہارے لیے فتح کر دی جائے گی اور اس میں تمہیں ایسے گھر ملیں گے جنہیں حمام کہا جائے گا تو اس میں مرد بغیر تہ بند کے داخل نہ ہوں اور عورتوں کو ان میں جانے سے روکو سوائے بیمار یا زچہ کے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحَمَّامِ/حدیث: 4011]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے لیے عجم کے علاقے فتح ہوں گے اور تم وہاں ایسے گھروندے پاؤ گے جنہیں «الْحَمَّامَاتُ» حمامات کہا جاتا ہو گا۔ تو مرد ان میں ہرگز نہ جائیں الا یہ کہ چادریں باندھ کر (باپردہ ہو کر جائیں) اور عورتوں کو ان سے منع کرنا سوائے اس کے کہ کوئی بیمار ہو یا نفاس میں ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحَمَّامِ/حدیث: 4011]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الأدب 38 (3748)، (تحفة الأشراف: 8877) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (عبدالرحمن بن زیاد بن انعم إفریقی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3748)
الإفريقي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں