🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

34. باب فِي الْعَبْدِ يَنْظُرُ إِلَى شَعْرِ مَوْلاَتِهِ
باب: غلام کا مالکن کے بال دیکھنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4105
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ مَوْهَبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ:" أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ فَأَمَرَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا، قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ، قَالَ: كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت مانگی تو آپ نے ابوطیبہ کو انہیں سینگی لگانے کا حکم دیا۔ ابوالزبیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوطیبہ ان کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ بچے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4105]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت چاہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطیبہ کو فرمایا: ”اسے سینگی لگائے۔“ راوی نے کہا: ”میرا خیال ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ ان کا رضاعی بھائی تھا یا نابالغ لڑکا تھا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/السلام 26 (2206)، سنن ابن ماجہ/الطب 20 (3480)، (تحفة الأشراف: 2909)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/350) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2206)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4106
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو جُمَيْعٍ سَالِمُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ بِعَبْدٍ كَانَ قَدْ وَهَبَهُ لَهَا، قَالَ: وَعَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ثَوْبٌ إِذَا قَنَّعَتْ بِهِ رَأْسَهَا لَمْ يَبْلُغْ رِجْلَيْهَا، وَإِذَا غَطَّتْ بِهِ رِجْلَيْهَا لَمْ يَبْلُغْ رَأْسَهَا، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَلْقَى قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكِ بَأْسٌ إِنَّمَا هُوَ أَبُوكِ وَغُلَامُكِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک غلام لے کر آئے جس کو آپ نے انہیں ہبہ کیا تھا، اس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک ایسا کپڑا پہنے تھیں کہ جب اس سے سر ڈھانکتیں تو پاؤں کھل جاتا اور جب پاؤں ڈھانکتیں تو سر کھل جاتا، فاطمہ رضی اللہ عنہا جن صورت حال سے دو چار تھیں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: ”تم پر کوئی مضائقہ نہیں، یہاں صرف تمہارے والد ہیں یا تمہارا غلام ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4106]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے ایک غلام لائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہبہ کیا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر ایسا کپڑا تھا کہ وہ اگر اسے سر پر لپیٹتی تو ان کے پاؤں تک نہ پہنچتا تھا، اور اگر پاؤں کو چھپاتیں تو سر پر نہ رہتا تھا۔“ پس جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس الجھن کو دیکھا تو فرمایا: ”تمہارے لیے کوئی حرج کی بات نہیں، تمہارے سامنے صرف تمہارے والد ہیں اور تمہارا غلام۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 4106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 399) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3120)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں