سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب في العبد ينظر إلى شعر مولاته
باب: غلام کا مالکن کے بال دیکھنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 4105
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ مَوْهَبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ:" أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ فَأَمَرَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا، قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ، قَالَ: كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت مانگی تو آپ نے ابوطیبہ کو انہیں سینگی لگانے کا حکم دیا۔ ابوالزبیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوطیبہ ان کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ بچے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 26 (2206)، سنن ابن ماجہ/الطب 20 (3480)، (تحفة الأشراف: 2909)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/350) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2206)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5744
| أمر النبي أبا طيبة أن يحجمها قال حسبت أنه قال كان أخاها من الرضاعة أو غلاما لم يحتلم |
سنن أبي داود |
4105
| أمر أبا طيبة أن يحجمها |
سنن ابن ماجه |
3480
| أمر النبي أبا طيبة أن يحجمها |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4105 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4105
فوائد ومسائل:
1: نابالغ بچے جو ابھی عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے آگاہ نہ ہوئے ہوں اور زرخرید غلام کا ایک ہی حکم ہے، لہذا بوقت ضرورت عورت کے لئے جائز ہے کہ اپنی زینت اس کے سامنے ظاہر کرسکتی ہے۔
2: خواتین کے علاج معالجہ کے لئے اسلامی معاشرے میں خواتین طبیات (لیڈی ڈاکٹرز) کا اہتمام کرنا ضروری ہے، تاکہ ضروری ہے تاکہ انہیں اجنبی مرد ڈاکٹروں کے سامنے نہ ہونا پڑے۔
3: عورت کے بال اس کی باطنی زینت کا حصہ ہیں جو وہ کسی غیر محرم کے سامنے ظاہر نہیں کرسکتی۔
1: نابالغ بچے جو ابھی عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے آگاہ نہ ہوئے ہوں اور زرخرید غلام کا ایک ہی حکم ہے، لہذا بوقت ضرورت عورت کے لئے جائز ہے کہ اپنی زینت اس کے سامنے ظاہر کرسکتی ہے۔
2: خواتین کے علاج معالجہ کے لئے اسلامی معاشرے میں خواتین طبیات (لیڈی ڈاکٹرز) کا اہتمام کرنا ضروری ہے، تاکہ ضروری ہے تاکہ انہیں اجنبی مرد ڈاکٹروں کے سامنے نہ ہونا پڑے۔
3: عورت کے بال اس کی باطنی زینت کا حصہ ہیں جو وہ کسی غیر محرم کے سامنے ظاہر نہیں کرسکتی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4105]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5744
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنگی لگوانے کی اجازت طلب کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طیبہ ؓ کو حکم دیا کہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو سنگی لگائے، ابو زبیر کہتے ہیں، میرا خیال ہے، حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، ابو طیبہ، ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا رضاعی بھائی تھا یا نابالغ لڑکا تھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5744]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
عورت کو علاج معالجہ کے لیے خاوند سے اجازت لینی چاہیے اور بہتر ہے کہ وہ علاج محرم سے کرائے،
کیونکہ آپ نے ابو طیبہ کو بھیجا جو ان کے رضاعی بھائی تھے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
عورت کو علاج معالجہ کے لیے خاوند سے اجازت لینی چاہیے اور بہتر ہے کہ وہ علاج محرم سے کرائے،
کیونکہ آپ نے ابو طیبہ کو بھیجا جو ان کے رضاعی بھائی تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5744]
Sunan Abi Dawud Hadith 4105 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري