سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب فِي الذُّؤَابَةِ
باب: چوٹی (زلف) رکھنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4193
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: أَحْمَدُ كَانَ رَجُلًا صَالِحًا، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ وَالْقَزَعُ أَنْ يُحْلَقَ رَأْسُ الصَّبِيِّ فَيُتْرَكَ بَعْضُ شَعْرِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے، اور «قزع» یہ ہے کہ بچے کا سر مونڈ دیا جائے اور اس کے کچھ بال چھوڑ دئیے جائیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4193]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «قَزَع» “ سے منع فرمایا ہے اور «قَزَع» سے مراد یہ ہے کہ ”بچے کے سر سے کچھ بال مونڈ دیے جائیں اور کچھ چھوڑ دیے جائیں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4193]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 72 (5921)، صحیح مسلم/اللباس 31 (2120)، سنن النسائی/الزینة 5 (5053)، سنن ابن ماجہ/اللباس 38 (3637)، (تحفة الأشراف: 8243)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2 /4، 39، 55، 67، 82، 83، 101، 106، 118، 137، 143، 154) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5920) صحيح مسلم (2120)
حدیث نمبر: 4194
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الْقَزَعِ، وَهُوَ أَنْ يُحْلَقَ رَأْسُ الصَّبِيِّ فَتُتْرَكَ لَهُ ذُؤَابَةٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے، اور «قزع» یہ ہے کہ بچے کا سر مونڈ دیا جائے اور اس کی چوٹی چھوڑ دی جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4194]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْقَزَعِ» ”قزع“ سے منع فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ ”بچے کا سارا سر مونڈ دیا جائے اور کوئی ایک لٹ باقی رکھی جائے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4194]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7586)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/101، 143، 154) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4195
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا قَدْ حُلِقَ بَعْضُ شَعْرِهِ وَتُرِكَ بَعْضُهُ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: احْلِقُوهُ كُلَّهُ أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا کہ اس کے کچھ بال منڈے ہوئے تھے اور کچھ چھوڑ دئیے گئے تھے تو آپ نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا: ”یا تو پورا مونڈ دو، یا پورا چھوڑے رکھو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4195]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا کہ اس کے کچھ بال مونڈ دیے گئے تھے اور کچھ چھوڑے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرمایا اور کہا: ”اس کے سارے بال مونڈ دو یا سارے رکھو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4195]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزینة 3 (5051)، مسند احمد (2/88) وانظر رقم: (4193)، (تحفة الأشراف: 7525)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 31 (2120) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
رواه مسلم (2120) مختصرًا ولم يذكر اللفظ
رواه مسلم (2120) مختصرًا ولم يذكر اللفظ