سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ
باب: چوٹی رکھنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4196
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" كَانَتْ لِي ذُؤَابَةٌ، فَقَالَتْ لِي أُمِّي: لَا أَجُزُّهَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُدُّهَا وَيَأْخُذُ بِهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ایک چوٹی تھی، میری ماں نے مجھ سے کہا: میں اس کو نہیں کاٹوں گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ازراہ شفقت) اسے پکڑ کر کھینچتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4196]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری لمبی لمبی زلفیں تھیں۔ میری والدہ نے مجھ سے کہا: ”انہیں مت کاٹو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں (پیار سے) کھینچتے تھے اور پکڑ لیا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4196]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18326) (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ميمون بن عبد اللّٰه عن ثابت : مجهول (تق: 7048) أو لعله ميمون بن أبان مستور (أيضًا : 7042)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 149
إسناده ضعيف
ميمون بن عبد اللّٰه عن ثابت : مجهول (تق: 7048) أو لعله ميمون بن أبان مستور (أيضًا : 7042)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 149
حدیث نمبر: 4197
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَحَدَّثَتْنِي أُخْتِي الْمُغِيرَةُ، قَالَتْ: وَأَنْتَ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ وَلَكَ قَرْنَانِ أَوْ قُصَّتَانِ، فَمَسَحَ رَأْسَكَ وَبَرَّكَ عَلَيْكَ، وَقَالَ:" احْلِقُوا هَذَيْنِ أَوْ قُصُّوهُمَا فَإِنَّ هَذَا زِيُّ الْيَهُودِ".
حجاج بن حسان کا بیان ہے ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، مجھ سے میری بہن مغیرہ نے بیان کیا: تو اس وقت لڑکا تھا اور تیرے سر پر دو چوٹیاں یا دو لٹیں تھیں تو انہوں نے تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی اور کہا: ان دونوں کو مونڈوا ڈالو، یا انہیں کاٹ ڈالو کیونکہ یہ یہود کا طریقہ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4197]
حجاج بن حسان نے بیان کیا کہ ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے۔ میری بہن مغیرہ نے بیان کیا کہ تم ان دنوں نوعمر بچے تھے اور تمہارے بالوں کی دو لٹیں تھیں۔ تو انہوں نے تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا اور تمہارے لیے برکت کی دعا کی اور فرمایا: ”انہیں مونڈ ڈالو یا کتروا لو، بلاشبہ یہ یہودیوں کی علامت ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4197]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 522) (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مغيرة بنت حسان،لم أجد من وثقها فھي : مجهولة،كما في التحرير (8685)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 149
إسناده ضعيف
مغيرة بنت حسان،لم أجد من وثقها فھي : مجهولة،كما في التحرير (8685)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 149