سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب فِي نَتْفِ الشَّيْبِ
باب: سفید بال اکھاڑنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4202
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى. ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَى، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَشِيبُ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ، قَالَ عَنْ سُفْيَانَ: إِلَّا كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى: إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفید بال نہ اکھیڑو، اس لیے کہ جس مسلمان کا کوئی بال حالت اسلام میں سفید ہوا ہو (سفیان کی روایت میں ہے) تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہو گا (اور یحییٰ کی روایت میں ہے) اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا اور اس سے ایک گناہ مٹا دے گا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4202]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفید بال مت نوچا کرو، جس کسی مسلمان کے بال حالت اسلام میں سفید ہو جائیں، قیامت کے دن یہ اس کے لیے نور کا باعث ہوں گے۔“ اور یحییٰ کی روایت میں ہے: ”اللہ تعالیٰ ایک ایک بال کے عوض اس کی نیکی لکھتا ہے اور ایک گناہ دور کرتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب التَّرَجُّلِ/حدیث: 4202]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8783، 8801)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب 59 (2821)، سنن النسائی/الزینة 13 (5083)، سنن ابن ماجہ/الأدب 25 (3721)، مسند احمد (2/206، 207، 212) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3385، 4458)
أخرجه النسائي (5071 وسنده حسن) ابن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (2/179)
مشكوة المصابيح (3385، 4458)
أخرجه النسائي (5071 وسنده حسن) ابن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (2/179)