🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب النَّفْسِ بِالنَّفْسِ
باب: جان کے بدلے جان لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4494
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَ قُرَيْظَةُ، وَالنَّضِيرُ وَكَانَ النَّضِيرُ أَشْرَفَ مِنْ قُرَيْظَةَ فَكَانَ إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْظَةَ رَجُلًا مِنَ النَّضِيرِ قُتِلَ بِهِ وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلًا مِنْ قُرَيْظَةَ فُودِيَ بِمِائَةِ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلًا مِنْ قُرَيْظَةَ، فَقَالُوا: ادْفَعُوهُ إِلَيْنَا نَقْتُلُهُ، فَقَالُوا: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْهُ، فَنَزَلَتْ: وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ سورة المائدة آية 42، وَالْقِسْطُ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، ثُمَّ نَزَلَتْ:أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ سورة المائدة آية 50"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قُرَيْظَةُ، وَالنَّضِيرُ جَمِيعًا مِنْ وَلَدِ هَارُونَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَام.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قریظہ اور نضیر دو (یہودی) قبیلے تھے، نضیر قریظہ سے زیادہ باعزت تھے، جب قریظہ کا کوئی آدمی نضیر کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا تو اسے اس کے بدلے قتل کر دیا جاتا، اور جب نضیر کا کوئی آدمی قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا تو سو وسق کھجور فدیہ دے کر اسے چھڑا لیا جاتا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو نضیر کے ایک آدمی نے قریظہ کے ایک آدمی کو قتل کر دیا، تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسے ہمارے حوالے کرو، ہم اسے قتل کریں گے، نضیر نے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کریں گے، چنانچہ وہ لوگ آپ کے پاس آئے تو آیت «وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط» اگر تم ان کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو اتری، اور انصاف کی بات یہ تھی کہ جان کے بدلے جان لی جائے، پھر آیت «أفحكم الجاهلية يبغون» کیا یہ لوگ جاہلیت کے فیصلہ کو پسند کرتے ہیں؟ نازل ہوئی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قریظہ اور نضیر دونوں ہارون علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4494]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریظہ اور نضیر (یہود کے دو قبیلے تھے) اور نضیر قریظہ کی بہ نسبت زیادہ معزز تھا۔ تو جب قریظہ کا کوئی آدمی نضیر کے کسی آدمی کو قتل کر دیتا تو اسے اس کے بدلے میں قتل کر دیا جاتا تھا۔ اور جب نضیر کا کوئی آدمی قریظہ کے آدمی کو قتل کر دیتا تو (مقتول کے ورثاء کو) ایک سو وسق کھجور دیت دیتا تھا۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو نضیر کے آدمی نے قریظہ کے ایک آدمی کو قتل کر دیا۔ تو قریظہ نے کہا: قاتل ہمارے حوالے کرو ہم اسے قتل کریں گے۔ نضیر نے کہا: ہمارے تمہارے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قاضی اور حکم ہیں۔ تو وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ تو یہ آیات نازل ہوئیں ﴿وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ﴾ [سورة المائدة: 42] آپ اگر فیصلہ فرمائیں تو ان میں انصاف سے فیصلہ فرمائیں۔ اس میں «اَلْقِسْطُ» انصاف کا مفہوم جان کے بدلے جان ہے۔ پھر دوسری آیت نازل ہوئی: ﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ﴾ [سورة المائدة: 50] کیا بھلا یہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ قریظہ اور نضیر دونوں سیدنا ہارون علیہ السلام کی نسل سے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4494]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/القسامة 4(4736)، (تحفة الأشراف: 6109) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4736)
داود عن عكرمة منكر
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 158

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں