سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب لاَ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِجَرِيرَةِ أَخِيهِ أَوْ أَبِيهِ
باب: کسی سے اس کے بھائی اور باپ کے جرم کا بدلہ نہ لیا جائے۔
حدیث نمبر: 4495
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِيَادٍ، حَدَّثَنَا إِيَادٌ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ:" انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي: ابْنُكَ هَذَا؟ قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: حَقًّا، قَالَ: أَشْهَدُ بِهِ، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا مِنْ ثَبْتِ شَبَهِي فِي أَبِي وَمِنْ حَلِفِ أَبِي عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ، وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164".
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ نے میرے والد سے پوچھا: ”یہ تمہارا بیٹا ہے؟“ میرے والد نے کہا: ہاں رب کعبہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سچ مچ؟“ انہوں نے کہا: میں اس کی گواہی دیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، کیونکہ میں اپنے والد کے مشابہ تھا، اور میرے والد نے قسم کھائی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! نہ یہ تمہارے جرم میں پکڑا جائے گا، اور نہ تم اس کے جرم میں“ اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «ولا تزر وازرة وزر أخرى» ”کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی“ (الانعام: ۱۶۴، الاسراء: ۱۵، الفاطر: ۱۸)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4495]
سیدنا ابو رمثہ (رفاعہ بن یثربی) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد سے پوچھا: ”یہ تمہارا بیٹا ہے؟“ (والد نے) کہا: ”ہاں، ربِ کعبہ کی قسم!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سچ؟“ میرے باپ نے کہا: ”میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنستے ہوئے تبسم فرمایا، کیونکہ میری مشابہت میرے باپ میں نمایاں تھی اور باپ نے میرے بارے میں قسم کھائی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! نہ یہ تیرے کسی قصور میں پکڑا جائے گا اور نہ تو اس کے بدلے میں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾ [سورة الأنعام: 164] ”کوئی جان کسی جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4495]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (4208)، (تحفة الأشراف: 12037) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3471)
أخرجه النسائي (4836 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (4065)
مشكوة المصابيح (3471)
أخرجه النسائي (4836 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (4065)