🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

28. باب فِيمَنْ قَتَلَ فِي عِمِّيَّا بَيْنَ قَوْمٍ
باب: ایسا مقتول جس کے قاتل کا پتہ نہ چل سکے اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4591
قَالَ أَبُو دَاوُد: حُدِّثْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ فِي عِمِّيَّا أَوْ رِمِّيًّا يَكُونُ بَيْنَهُمْ بِحَجَرٍ أَوْ بِسَوْطٍ فَعَقْلُهُ عَقْلُ خَطَإٍ، وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَقَوَدُ يَدَيْهِ فَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اندھا دھند مارا جائے یا کسی دنگے فساد میں جو ان میں چھڑ گیا ہو، یا کسی پتھر یا کوڑے سے مارا جائے تو اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہو گی، اور جو جان بوجھ کر عمداً کسی کو قتل کرے تو وہ موجب قصاص ہے، اب اگر کوئی ان دونوں کے بیچ میں پڑ کر (قاتل کو بچانا چاہے) تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4591]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی بلوے میں مارا جائے (اور قاتل دیکھا نہ گیا ہو) کہ ان کی آپس میں سنگباری ہوئی ہو یا سانٹے ڈنڈے بازی تو اس کی دیت قتلِ خطا والی ہو گی۔ اور جو عمداً جان بوجھ کر قتل کیا گیا ہو تو اس میں قاتل کی جان سے قصاص ہے اور جو کوئی اس (قصاص لینے) میں آڑے آئے تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4591]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4539)، (تحفة الأشراف: 18828، 5739) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4540)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں